تنقید
*ذہنوں میں لگے قفل کب کھلیں گے؟*
******************
*لوگوں کو اتنا" مذہبی"*
بنادو کہ وہ
*تحقیق کرنے کو ایمان کے منافی سمجھیں ، سوال کرنے کو گستاخی* ،
*تنقید کو گناہ* ،
*ہر غلط بات اور حرکت کو خندا پیشانی سے قبول کر لینے کو بزرگوں کا ادب و احترام*
*اور ان کے پیر دبانے کو خدمت ، ان کی اندھی عقیدت کو ایمان کا تقاضہ* ،
*ذہنی غلامی کو دین کا جز* ،
*اور ان سے اختلاف کو گمراہی* ،
*ان کے دیدار کو سعادت*
*اور مصافحے کو مغفرت کا ذریعہ سمجھیں*.
آج یہی حال ان مذہبی ٹھکیداروں نے قوم وملت کابنا رکھا ہے ۔۔۔۔
*سوال پوچھنے کیلئے سوچنا پڑھتا ہے* ۔کہیں جواب ملنے کے بجائے گمراہی کا فتوی نہ گلے پڑ جائے ۔عقیدت کا طوق گلے میں ڈال کر تحقیق کے دروازے بند کر دئے گئے ۔
جمعہ کے بیان میں اکثر غیر مستند اور قرآنی تصور دین سے متصادم قصے کہانیاں بیان کئے جاتے ہیں ۔سامعین میں اچھا خاصہ پڑھا لکھا طبقہ موجود ہوتا ہے ۔۔۔مگر کیا مجال کہ مقرر سے کسی بات پر کوئی سوال کر لے ۔ ۔
ایک طبقہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے جنھیں صحیح ، غلط کا سرے سے کوئی شعور ہی نہیں ہوتا ۔
کچھ اندھے عقیدت مند ہوتے ہیں اور کچھ وہ ہوتے ہیں جو سمجھتے ہوئے بھی مخالفت کے خوف سے خاموش رہتے ہیں ۔
وہ لوگ جو اپنے اطراف اندھے ،گونگے ، بہروں کی فوج جمع کرتے ہیں اور مرعوبانہ و غلامانہ ذہنیت کی آبیاری کرتے ہیں ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ان کے معتقدین میں کسی طرح کی قابلیت پیدا نہ ہونے پائے۔
کیونکہ انھیں اس بات کا خدشہ لگا رہتا ہے کہ معتقدین اور مقلدین میں اگر علمی قابلیت و صلاحیت،فہم وفراست پیدا ہو جائے اور ان میں ،معاملات و مسائل کو شعوری طور پر سمجھنے،تجزیہ کرنے اور پرکھنے کی استعداد آ جائے تو پھر نہ صرف یہ کہ وہ ان کے دام فریب سے نکل جائیں گے بلکہ "اکابرین" کے ہر معقول و نا معقول پر سوال اٹھائیں گے ۔ ۔۔۔۔
اس لئے سارے حربے اور طریقے ایسے استعمال کئے جاتے ہیں کہ جس سے حد ادب کے جلو میں عام لوگ ، خصوصاً معتقدین جاہل اور بیوقوف بنے رہیں اور ان کی عقلوں پر شخصیت پرستی کا تالا پڑا رہے ۔ ۔۔۔
Comments
Post a Comment