Posts

Showing posts from July, 2025

*ازدواجی رشتوں میں جذباتی ہم آہنگی Emotional Alignments کےاثرات* (16)از: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری*سکون دل ۔ سکون خانہ ۔ تنازعات سے ہم آہنگی تک کا سفر*9224599910

*ازدواجی رشتوں میں جذباتی ہم آہنگی Emotional Alignments کےاثرات* (16) از: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری *سکون دل ۔ سکون خانہ ۔ تنازعات سے ہم آہنگی تک کا سفر* 9224599910 ################ ازدواجی رشتہ صرف قانونی یا جسمانی تعلق نہیں بلکہ جذبات ، شعور ، اقدار ، اور مقاصد کا اشتراک ہے ۔ دو افراد جذباتی سطح  پرہم آہنگی، سمجھوتا ، باہم فکری کا قیام جس کے نتیجے میں ایک دوسرے کے احساسات  اور جذبات کو بہتر طریقے سے سمجھنے ، محسوس کرتے اور ان کا احترام  کرتے ہیں  ایک دوسرے کی خوشی اور دکھ کو اپنے اندر جذب کر کے مطابقت پیدا کرتے ہیں ۔ یہ فاصلوں کو کم کرتا اور اعتماد ومحبت کی پرورش اور ان کا ارتقاء کرتا ہے ۔ تنازعات میں غلط فہمی کی بجائے ہم دلی پیدا کرتا ہے ۔  یہ لوث محبت unconditional  LOVE  ہے ۔ یہ ایک رشتی سازی کا فن ہے ۔  اس سے رشتے بہتر ہوتے ہیں The art bod  relationship Building ، نفسیاتی اور جمالیاتی سکون ملتا ہے ۔ یہ خاندانی سکون کی کنجی ہے ۔ جو جوڑے  emotional attunement کرلیتے ہیں ان میں طلاق کا خطرہ 40 % کم ہوتا ہے۔ 💠  "مشترکہ جذباتی شعو...

خوشیوں کے رنگ میں ازدواجی قوس قزح* Colours of happiness anrthe RANBIW of Fidelity

*خوشیوں کے رنگ میں ازدواجی قوس قزح*  Colours of happiness anrthe RANBIW  of Fidelity  عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری کی زیر اشاعت کتاب  *ازدواجی تنازعات سے ہم آہنگی تک کا شعوری سفر* 9224599910 ###########################  کسے پسند نہیں ہیں قوس قزح کے رنگ ؟ رنگ تو رنگ ہیں ان ، رنگوں کی اپنی دلاویزی اور فطری جمال ہوتا ہے ۔ تتلی کے رنگ ،گل کی ادا ،کلی کی مسکراہٹ ،  سبزہ زار ، آنکھوں کی جھیلیں ،  باغ و چمن ، یہ  سرور و انبساط اور رنگینی نہ ہو تو بے رنگی اداسی ،افسردگی  اور اضمحلال میں بدل جاتی ہے ۔  ازدواجی مسرتوں میں  محبت کے دھنک رنگ اپنائیے اور اثر آفرینی کو محسوس کیجیے ۔  آپ کے بیڈ روم میں ہلکے نیلے  ، سبز ، جامنی رنگ سجاوٹ کے لیے مناسب ہے ۔ لباس کے شوخ رنگ سے توانائی حاصل لیجیے ۔ ہلکے رنگوں سے سکون اور اطمینان  پائیے ۔ آپ کی  شخصیت بھی نکھرتی ہے ان ہی رنگوں کی پھلواری سے  ۔ آپ کی محبت  سوچ  کے  عمل میں  ڈھلتی ہے تو کردار تشکیل پاتے ہیں ۔ زندگی میں کیا  ہے ؟   کی بجائے کیا ہوسکت...

*"سکینت " فیملی کاؤنسلنگ سینٹر کے اصول و ضوابط*Roles and Regulations* (Sakeenat Family Counseling Centre, Govandi ( w) Mumbai).400043فون: 9224599910 | ای میل: abdulazimmku@gmail.com

*"سکینت " فیملی کاؤنسلنگ سینٹر کے اصول و ضوابط*Roles and Regulations*  (Sakeenat Family Counseling Centre, Govandi ( w) Mumbai).400043 فون: 9224599910 | ای میل: abdulazimmku@gmail.com ******************************** *1۔ مرکز کے اغراض و مقاصد* ازدواجی ، طلاق ، خلع   علحیدگی سے بچاؤ کی حکمتیں ، خاندانی ، سماجی اور نفسیاتی مسائل میں اسلامی و پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرنا ۔ افراد و خاندانوں کو متوازن ، پر سکون اور با اخلاق زندگی گزارنے میں مدد دینا ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں صلح ،  رفاقت  (Companionship) مفاہمت( Reconciliation) , مصالحت (Adjustment) ، موافقت (Compatibility)  , برداشت (Tolerance) اور اصلاحِ باطن Self) . (purification کو فروغ دینا ۔ 2۔ خدمات کی نوعیت انفرادی و اجتماعی کاؤنسلنگ ۔ ازدواجی تنازعات کی ثالثی والدین اور بچوں کے تعلقات کی رہنمائی ۔ نشہ ، غصہ ، جنسی الجھن ، اور ذہنی دباؤ ، علیحدگی  ، مداخلت ، تربیت ، عورتوں کی ملازمت سے پیدا گھریلو مسائل ، جیسے مسائل  میں  مشورہ ۔ آن لائن و آمنے سامنے نشستیں (بذریعہ فون ، ویڈیو کال ، ی...

*شک کا کیڑا اور غلط فہمیوں سے ہم آہنگی تک کا سفر"* (29)عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری کی زیر اشاعت کتاب ازدواجی تنازعات سے رفاقتی ہم آہنگی تک کا سفر 9224599910

*شک کا کیڑا اور غلط فہمیوں سے ہم آہنگی تک کا سفر"* (29) عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری کی زیر اشاعت کتاب  ازدواجی تنازعات سے رفاقتی ہم آہنگی تک کا سفر  9224599910 ######################₹ > "محبت جب بدگمانی کے سایے میں آجائے تو دلوں کا سکون کھو جاتا ہے" ازدواجی زندگی صرف قانونی بندھن نہیں بلکہ جذباتی ، ذہنی ، اور روحانی ہم آہنگی کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ مگر جب اس رشتے میں غلط فہمیاں ، شک ، بد مزاجی اور محبت کی کمی در آتی ہے تو ایک پر سکون خانہ آہستہ آہستہ ایک بے چین قفس میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ اس مضمون میں ہم ان عناصر کا نفسیاتی، سماجی ، دینی اور ادبی جائزہ لیتے ہیں اور حل کی جانب رہنمائی کرتے ہیں ۔ 1. غلط فہمیاں : خاموش زہر نفسیاتی زاویہ : ہر انسان ایک الگ ذہنی نقشہ (mental map) رکھتا ہے ۔ ازدواج میں بات چیت کی کمی ، غیر واضح توقعات اور ماضی کے منفی تجربات غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں ۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ہیرالڈ بیک کے مطابق : "Misunderstandings are not the result of ignorance, but the absence of emotional transparency." (غلط فہمیاں جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ جذباتی شف...

ازدواجی ہم آہنگی کا سفر Journey to Marital Harmony(21)

*ازدواجی ہم آہنگی کا سفر Journey to Marital Harmony(21)* 1. *ازدواجی ہم آہنگی کی تعریف* ازدواجی ہم آہنگی (Marital Harmony) اس تعلق کا نام ہے جس میں میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات ، خیالات اور ضروریات کو سمجھتے ہوئے باہمی محبت ، اعتماد ، عزت ، اور ایثار و قربانی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ۔ یہ صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں ، بلکہ ہم دل و ہم دماغ ہو کر جینے کی کیفیت ہے ۔ *2. ازدواجی ہم آہنگی کے بنیادی ستون* ازدواجی رشتہ کامیاب بنانے کے لیے درج ذیل ستون ناگزیر ہیں :  **محبت : بے لوث اور جذبات سے بھرپور تعلق ۔ **اعتماد : دل کی گہرائی سے یقین ۔ **احترام : رائے ، شخصیت اور جذبات کی قدر ۔ **ابلاغ : مؤثر ، نرم اور بروقت بات چیت ۔ **معافی : درگزر ، بھول جانے اور دوبارہ موقع دینے کا جذبہ ۔ **قربانی : خود کو دوسرے کی خاطر پیش کر دینا ۔ **جنسی ہم آہنگی : جسمانی و جذباتی یکجہتی ۔ **روحانی ہم آہنگی : اللہ سے مشترکہ تعلق اور دین داری ۔ *3. ہم آہنگی میں رکاوٹیں: اسباب و وجوہات* ازدواجی تعلق میں خلل کے اسباب میں درج ذیل عوامل نمایاں ہیں ۔ ** روزمرہ کی غلط فہمیاں ۔ ** انا پرستی اور ضد ۔ ** جنسی بے اطمینانی ...

تربیت،پرورش۔پیش لفظ ۔ندوی

 پیش لفظ  از : ڈاکٹر سراج الدین ندوی چیرمین ملت اکیڈمی۔بجنور بچے نہ صرف ہمارا بلکہ قوم اور ملک کا مستقبل ہیں۔آج کے بچے کل جوان ہوں گے اور گھر کے ساتھ ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بچوں کی جیسی تربیت کریں گے یا انھیں جیسا ماحول فراہم کریں گے وہ ویسے ہی بنیں گے۔اکثر مواقع پر یہ کہہ کربچوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ یہ ابھی بچے ہیں۔مسلم امت اس طرف سے کچھ زیادہ ہی غافل ہے۔جب کہ دین اسلام میں بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ ہر ذی شعور انسان اپنے بچے کی تربیت اور تعلیم کے لیے فکر مند نظر آتا ہے۔بیش تر والدین اپنے بچوں کو اچھا بنانے کی تمنا کرتے ہیں۔موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر غریب اور مزدور پیشہ والدین بھی اپنے جگر گوشوں کو اچھی اور اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔یہ ایک خوش آئند امر ہے۔مگر والدین کی ناخواندگی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔مسلم معاشرے میں بچوں کی تربیت اور رہنمائی کا بھی معقول نظم نہیں ہے۔بیش تر دینی جماعتیں بڑوں میں ہی دین کا کام کرتی نظر آتی ہیں۔مساجد میں جو وعظ و نصائح کی مجالس ہوتی ہیں ان کا موضوع بھی بچے شاذ و نادر ہی ہوتے...