تربیت،پرورش۔پیش لفظ ۔ندوی
پیش لفظ
از : ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی۔بجنور
بچے نہ صرف ہمارا بلکہ قوم اور ملک کا مستقبل ہیں۔آج کے بچے کل جوان ہوں گے اور گھر کے ساتھ ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے بچوں کی جیسی تربیت کریں گے یا انھیں جیسا ماحول فراہم کریں گے وہ ویسے ہی بنیں گے۔اکثر مواقع پر یہ کہہ کربچوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے کہ یہ ابھی بچے ہیں۔مسلم امت اس طرف سے کچھ زیادہ ہی غافل ہے۔جب کہ دین اسلام میں بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔
ہر ذی شعور انسان اپنے بچے کی تربیت اور تعلیم کے لیے فکر مند نظر آتا ہے۔بیش تر والدین اپنے بچوں کو اچھا بنانے کی تمنا کرتے ہیں۔موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر غریب اور مزدور پیشہ والدین بھی اپنے جگر گوشوں کو اچھی اور اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے ہیں۔یہ ایک خوش آئند امر ہے۔مگر والدین کی ناخواندگی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔مسلم معاشرے میں بچوں کی تربیت اور رہنمائی کا بھی معقول نظم نہیں ہے۔بیش تر دینی جماعتیں بڑوں میں ہی دین کا کام کرتی نظر آتی ہیں۔مساجد میں جو وعظ و نصائح کی مجالس ہوتی ہیں ان کا موضوع بھی بچے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔
بچوں کی تعلیم و تربیت کیسے کریں؟اس موضوع پر جس قدر مواد انگریزی زبان میں ہے اردو اوردیگر زبانوں میں نہیں ہے۔اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے،ہمارے دوست جناب عبدالعظیم رحمانی ملکا پوری نے یہ کتاب تصنیف کی ہے۔اس کتاب میں سمندر کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے۔استقرار حمل سے لے کر بچے کے بالغ ہونے تک کے مسائل کا احاطہ کیا گیاہے۔ان مسائل کا حل قرآن و احادیث کی روشنی میں بتانے کی سعی کی گئی ہے۔اس کتاب کالب ولہجہ تکلمانہ ہے۔کتاب پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف ہم سے محو گفتگو ہے۔اس انداز تحریر نے کتاب کو دل چسپ بنا دیا ہے۔کثرت سے برمحل اور عمدہ اشعار پیش کیے گئے ہیں جو مصنف کے ادبی ذوق کا پتہ دیتے ہیں۔بے وجہ کی گفتگو اور طویل تمہیدسے گریز کیا گیا ہے۔اس کتاب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں موجودہ زمانے کے چیلینجز کو بھی موضوع بحث بنایا گیا ہے۔معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کو سنداً پیش کیا گیا ہے۔سچ بات یہ ہے کہ ا س کتاب میں پھولوں کی آبیاری کا فن پیش کیا گیا ہے۔مصنف نے بعض عناوین کے تحت مفید کتابوں کے مطالعہ کی جانب رہنمائی بھی کی ہے۔بہتر ہوتا کہ ان کتابوں کی فہرست آخر میں دے دی جاتی۔کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ کتاب والدین اور سرپرستوں کے علاوہ تعلیم گاہوں کے اساتذہ و مربین کے لیے یکساں مفید ہے۔کتاب کا ہر لفظ مصنف کے اس اضطراب کا عکاس ہے جو بچوں کی خراب عادات کو دیکھ کر اس کے دل میں کروٹیں لیتا ہے اور اس کو چین سے سونے نہیں دیتا۔
ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم کتاب سے دور ہوتے جارہے ہیں۔کتاب کے مطالعہ کا رجحان دم توڑ رہا ہے۔دوسری طرف اردو زبان سے غفلت
نے ہمیں اپنے علمی ورثے سے استفادے سے محروم کردیا ہے۔ایسے میں مصنف کی یہ آواز کتنے کانوں تک پہنچے گی اور پھر سماج میں کیا تبدیلی لائے گی اس کا علم عالم الغیب کے سوا کسی کو نہیں۔مصنف نے تو اپنے حصہ کا کام کردیا ہے۔اب یہ ذمہ داری ہر اس شخص کی ہے جس کو اللہ نے شعور کی آنکھیں عطا فرمائی ہیں کہ وہ کتاب کی توسیع و اشاعت میں حصہ لے۔کمپوزنگ کی بعض غلطیوں کے سوا یہ کتاب اغلاط و نقائص سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔یہ کتاب ہر اس انسان کے لیے مفیدہے جوگلہائے جنت کی آبیاری کرکے اپنے مستقبل کو معطر بنانا چاہتا ہے اور کون ہے جو ایسا نہیں چاہتا؟
میں جناب عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری صاحب کو کتاب کی اشاعت پر صدق دل سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور بارگاہ رب العزت میں دعا گو ہوں کہ وہ کتاب کو آنے والی نسلوں کے لیے تربیت کا ذریعہ اور مصنف کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے۔آمین
ڈاکٹر سراج الدین ندوی
چیرمین ملت اکیڈمی،بجنور
مدیر اعلی۔۔اچھا ساتھی
Comments
Post a Comment