*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage
*ازدواجی مسرتیں*(2)
Happiness in Marriage
عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری کی زیر ترتیب کتاب
*سکون خانہ ۔ جھگڑوں سے ہم آہنگی تک کاسفر*۔۔۔۔۔
سے ایک مضمون
9224599910
###################
خوش گوار زندگی کی بنیاد خوش گوار ازدواجی زندگی پر ہے ۔ اس حوالے سے مرد عورت میں فطری طور سے ترجیہات میں فوق ہے۔ عورت محبت اور رومانس کی خواہاں ہے جبکہ مرد صرف لطف وسکون چاہتا ہے۔ مظبوط ازدواجی تعلق کی بنیاد مثبت رویوں اور احترام پر ہے ۔ ازدواجی زندگی میں سکون کی تلاش ایک عمیق اور بنیادی خواہش ہے جو رشتے کی خوشحالی اور پائیداری کے لیے ضروری ہے۔
پھر ازدواجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھاؤ۔۔۔۔(النساء:24)
نام ہونٹوں پہ تیرا آئے تو راحت سی ملے
تو تسلی ہے ، دلاسہ ہے ، دعا ہے ، کیا ہے
*کیسے حاصل کی جائے خوشیاں*
پسند کے خلاف باتیں ، چیزیں ، معاملات ، زوج Spouse کے ساتھ ۔موفقت Adjustment کرنا مسرتوں کا راز ہے ۔ ناپسندیدگی میں پسند کا پہلو تلاش کرنا بڑا کام ہے ۔ شکایت کلچر Complaint Culture مسرتوں کا دشمن ہے ۔ مرد عورت کے جذباتی مزاج Emotional Nature کو سمجھے اور برداشت کرے اور عورت مرد کے بے لچک مزاج Stubbom Nature کو برداشت کرے تو دونوں کے درمیان خوش گوار تعلق قائم رہے گا ۔
محبت کی سب سے بڑی زبان عزت ہے ، اگر وہ نہ ہو تو محبت خود کو بے وزن محسوس کرتی ہے ۔ ایک دوسرے کی بات ، سننے ، سمجھںے اور نرم ، اچھے الفاظ کا انتخاب کرے اور بہترین طریقے سے جواب دینے کی صلاحیت سیکھیں ۔
گھریلو جھگڑے اور آپسی شکر رنجی ، کھٹے میٹھے رویوں کی پیداوار ہوتے ہیں جبکہ ازدواجی مسرتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوتیں ہیں ۔ ان کے درمیان توازن قائم کرنا سکون کی راہ ہموار کرتا ہے ۔
**ازدواجی مسرتیں**:
ازدواجی مسرتیں وہ لمحات، تجربات، اور عوامل ہیں جو رشتے میں ، لطف ،انبساط ، خوشی، اطمینان، اور سکون لاتے ہیں۔
ان میں شامل ہیں:
1. **جذباتی قربت**:
جب میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے محفوظ جذباتی ماحول فراہم کرتے ہیں، تو یہ رشتے میں خوشی اور طمانیت کا باعث بنتا ہے۔
مثال: ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق ، چھوٹے لمحات کی قدر ، خوشیوں کا بانٹنا ،مسکرا نا ، مشکل کاموں میں مدد ، تکلیف میں ساتھ ۔ ہر طرح کا تعاون ۔
2. *مشترکہ اقدار اور اہداف*:
دینی، خاندانی، یا مالی اہداف پر مل کر سوچنے ، منصوبہ بنانے ، کام کرنے سے رشتہ مضبوط ہوتا ہے اور دونوں فریق ایک سمت میں چلتے ہیں ۔
(2) مثال :
مل کر بچوں کی تربیت یا گھر کے لیے بچت کا منصوبہ بنانا ۔
3. *باہمی احترام ، عزت اور قدر دانی*:
ایک دوسرے کی کوششوں ، خوبیوں ، اور انفرادیت کی قدردانی کرنے سے اور حوصلہ افزائی کے کلمات کہنے سے رشتے میں خوشی بڑھتی ہے ۔
*تیری انگلی میں جچتی ہے انگوٹھی اک ستارے سی*
(3)مثال:
شریک حیات کی چھوٹی کامیابیوں کی تعریف کرنا ، ان کے لباس کے انتخاب کی تعریف ، ان کے بنائے کھانے کے ذائقہ کی تعریف ، ان کی رائے کو اہمیت دینا ۔ ان سے مشورہ مانگنا ۔
4. *روحانی ہم آہنگی*:
مذہبی اقدار ، جیسے صبر ، شکر ، اور معافی ، رشتے کو گہرائی اور سکون دیتے ہیں۔
(4) مثال:
مل کر عبادات کرنا ، جیسے کہ نماز یا قرآن کی تلاوت ، دعائیں اور اذکار کرنا،نفل روزی رکھنا۔ یہ رشتے میں روحانی طمانیت لاتے ہیں۔
5. *جسمانی قربت*:
صحت مند اور باہمی رضامندی سے جسمانی رابطہ (جیسے چھونا ، گلے لگانا یا محبت بھرے لمس) رشتے میں خوشی اور تحفظ کا احساس بڑھاتے ہیں۔
Comments
Post a Comment