لڑکے لڑکیوں کی چال ڈھال
*لڑکے، لڑکیوں کے چال چلن، اوردیکھ بھال*
از قلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
اس دور میں آزادی نسواں (Womens Liberation)مساوات مردوزن، فحاشی، عریانیت، بناؤ سنگھار، آزادی، کھلاپن، روشن خیالی نے لڑکیوں کی عصمت و عفت کو غیر محفوظ بنادیا ہیے۔
*اے لوگوجو ایمان لائے ہو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کا ایندھن ہوں گے انسان اور پتھر -*
(التحریم :6)
"اور جس شخص نے تین لڑکیوں یاتین بہنوں کی سر پرستی کی اور انھیں تعلیم وتربیت دیاور ان کے ساتھ رحم کا سلوک کیا یہاں تک کہ الله تعالیٰ انھیں بے نیاز کردے تو ایسے شخص کے لیے جنت واجب کر دی ۔دو لڑکیوں کی پرورش پربھی یہی اجر ہے -"( مشکٰوتہ)
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بچیوں کی کڑی نگرانی رکھیں۔ غیر محفوظ اور اختلافات کی جگہوں پر تنہا نہ جانے دیں۔ رات گھر سے باہر اکیلی نہ نکلیں، ظاہری ہمدرد کی ہمدردیاں سمیٹنے سے گریز کریں۔Good touch or bad touch کی سمجھ اور اس کے شعور سے واقفیت رکھتی ہوں۔ اجنبی مردوں اور دور کے رشتہ داروں سےچیزیں، روپے اور تحفے قبول نہ کریں۔ہنسی مذاق اور موبائل پر بے جا بے تکلفی اور چیٹنگ ،سرفنگ سے بچیں ۔ ذو معنی گفتگو اور ہمہ جہت معنی والی ویڈیوزاور اپنے الگ الگ پہلو کے Good lookingفوٹوزکی ترسیلات بلیک میلنگ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ انٹرنيٹ کلچرسے بچیں۔ اس کے گیجیٹ بھی مواقعے پیداکرتے اور فحاشی کی طرف راغب کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں ۔ تصویر پر چہرے بدل کر بدنامی کا راستہ ہموار کرتے ہیں ۔
لڑکیاں گفتگو میں سخت لہب و لہجہ اپنائیں ۔نرم گفتگواور لگاوٹ دل میں شیطانی راہ ہموار کر سکتی ہیے۔
*اور جو گمراہ ہو اس کی گم راہی کا وبال اسی پرہے*
*اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا*
(الاسراء:15)
اسلام کی تعلیمات پر دل سےعمل پیرا ہوں۔مرد بڑی عمر والے ہی کیوں نہ ہوں! دور دراز کے رشتہ دار بھی کیوں نہ ہوں، بظاہر نیک فطرت نظر آتے ہوں!۔ ان کے ساتھ خلوت اختیار نہ کریں،نہ ہی ان کے بھروسے بچیوں کو چھوڑ یں ۔ لڑکیاں اپنی ان سہیلیوں کے نام بھی اپنی والدہ کو بتائیں جن کی بات مان لینے سے یا عین وقت پر ان کےکھسک جانے سے خلوت کے مواقعے نکل آتے ہوں اور بالغ لڑکیاں تنہا پڑ جاتیں ہوں۔یا آلہ کار بن کر بھولی بھالی شریف النّفس بچّیوں کو پھسانے کا سبب بنتی ہوں۔والدیں سے جھوٹ بول کر کلاسیز کا نام بتا کر سہیلیوں کےگھر جانا ،پارک ،لان،کینٹین میں وقت گزارناEntertainmentبھی آفت لا سکتا ہیے۔ مخلوط تعلیمی اداروں میں بالغ لڑکیوں کو ہر طرح سے چوکنہ رہنا اورمحفوظ راہ کو اپنانا چاہیے۔معاشقوں سے بالکل پرہیز کریں۔ دیر رات، برتھ ڈے پاٹیوں، اور تقاریب میں والدہ کے ساتھ کے بغیر شرکت نہ کریں۔
*راہ آسان ہو گئی ہوگی*
*جان پہچان ہو گئی ہوگی*
اور
*پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں*
*اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی*
یہ ہر دو فریق(مرد،عورت) کے لیے سمِ قاتل ہیے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کوئ غیر محرم مرد بالغ عورت کو تنہائی میں قرآن کی تعلیم بھی نہ دے، اس لیے کہ وہاں تیسرا شیطان موجود ہوتا ہیے۔
*بوئے پودے ببول کے آم کہاں سے ہو ئے*
اس دور میں الزام لگانا اور بدنام کردینا آسان کام ہو گیا ہیے -البتہ اس کی سچائی تو وقت اور ثبوت ہی سے ممکن ہیے۔ یاد رکھیے آپسی پُر خاش اور انتقام کے لیے کسی کی عزّت کو اُچھالنا اور بے بنیاد اور جھوٹاالزام لگا کر پھانس دینا کبیرہ گناہ ہیے۔
معاشرے میں جب اس طرح کی شرم ساری کی خبر سنی جاتی ہیے تو پوری انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہیے ۔۔مردوں کو بھی احتیاط کرنی چاہیےکہ بالغ لڑکیوں سے بلا وجہ تنہائ اختیارنہ کریں،آگ سے دور رہ کر دامن کو چنگاری سے بچانے ہی میں عافیت ہے۔۔
*ایک ذرا سی بھول سے وامق چولھے کی چنگاری*
*دامن تک پہنچنے نہ پہنچے آنچل تک آجا تی ہے*
ہنسی مذاق اور بے تکلفی اور خلوت سے پرہیز کریں۔ اُنھیں اپنے اطراف منڈلانے کے مواقعے ختم کردیں -
نوکری کرنے والی مسلم لڑکیوں کے ساتھ کام کرنے والے لڑکوں(colleagues) سے تعلقا ت اور بے تکلفی، انھیں پیار ومحبت کے دام میں پھنسا لیتی ہے اورپھر وہ بین مذہبی شادیInter cast marriage) کے چکر میں پڑ سکتی ہے -اس سے حتی المقدور بچنا چاہیے۔
اسلام نے مجرّد رہنے کے با لمقابل نکاح کو مقدّم رکھا ہیے،اور آسان کیا ہیے۔چاہیے کہ اپنی ازدواج کو اپنے ساتھ رکھیں۔بڑے شہریوں میں تجرّد کی زندگی نہ گزاریں، اگر کسی وجہ سے تنہا زندگی گزار رہیے ہوں تو روزوں کا اہتمام کریں۔کسی مطلقہ، بیواہ سے شادی کر لیں۔ کم خوبصورت بیوی کا موازنہ کم عمرلڑکیوں سے نہ کریں،اپنی خواہش اور شہوانی خواہش کو نکیل دیں ۔اللہ نے جو مقدّر کیا ہیے اس پر شکر ادا کریں۔ یاد رکھیے شیطان اس راستے سےدین داروں کو بھی گمراہ کردیتا ہیے۔
*عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری*
Comments
Post a Comment