اے محبت،تو نے والدین کو تڑپایا
*اے محبت تو نے والدین کو غیر بنا دیا*
ایک سروے کے مطابق
2018 سے لے کر 2022 تک صرف پاکستان میں دولاکھ 23 ھزار لڑکیاں فیس بک سے محبت کر کےمردوں کی ھوس کا نشانه بنیں
*نادان! تم نے کس پر بھروسہ کرلیا*
تین لاکھ سے زیاده لڑکیوں نے اپنی نیوڈ پکس اور ویڈیو لڑکوں کو دیں
3 ھزار لڑکیاں ایسی ھیں جو محبت کے نام په ملنےگیئں اور لڑکوں نے الله کی قسم, ماما کی قسم, ڈیلیٹ کردوں گا کا ڈرامه کر کے پورن ویڈیو بنائی اور بعد میں ان کو اس ویڈیو کے زریعے بلیک میل کیاجاتارہا۔
بارہا اپنی ھوس پوری کی پیسے لیے اور دوستوں کی بھی ھوس پوری کروائی .
کتنی ھی لڑکیوں نے خودکشی کی.
کتنی ھی لڑکیوں کی ویڈیو اب بھی مختلف ویب سائٹ پہ گردش کررھی ھیں.
ہندوستان میں بھی مسلم تعلیم یافتہ لڑکیاں ارتداد کی لہرمیں بھی بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہیں۔
کتنے ایسے کیس ھیں جو رپورٹ ہی نھیں ھوتے اور ماں باپ اپنی عزت کے مارے اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ھیں
کہتے ھیں انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ھے اور دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھتا ھے
مگر افسوس یه ھے که اتنے کیس رپورٹ ھونے کے باوجود بھی لڑکیوں کو ھوش نھیں آیا
وه مسلسل اپنی عزت نیلام کرنے پہ تلی ھوئی ھیں۔
*تیرے انجام پہ رونا آیا*
صرف اک جملے کے آسرے په کہ "میرے والا ایسا نھیں" اور جب سب کچھ لٹا بیٹھتی ھیں تو سمجھ آتی ھے که میرے والا بھی ایسا ھی گھٹیا ھے.
سوچنے کی بات یه ھے که
اگر میرے والا یا تیرے والا اتنا ھی اچھا ھوتا تو میرا رب نامحرم رشتے حلال قرار دیتا جب دیور, جیٹھ, سارے کزن, خالو, پھوپھا جیسے رشتے جن کو آپ جانتی ھیں ان کو نامحرم قرار کیوں دیتا؟
تو آپ سوشل میڈیا په گردش کرتے مردوں پہ کیسے بھروسه کرسکتی ھیں؟
*یہ کیسی محبت اور کیسا عشق ہے*
ایک وبا غیر مسلم لڑکوں کے سچے عشق میں گرفتاری ہے۔ لاکھوں لڑکیاں لو جہاد کی سازش کا شکار ہورہی ۔اس عنوان سے باریکی سے غور کیا گیا تو کئی کیس ایسے ملے جس میں یہ خوبصورت شریف خاندان کی لڑکیاں اب ان کی تگڑی کمائ کا ذریعہ بنی ہوئی ہے اور وہ لاکھوں کی نقدی کمائ کر رہے ہیں ۔انہیں کوئ خوف نہیں کیونکہ مسلم والدین کی ناک کٹا کر یہ بھاگ کر اپنی مرضی سے شادی رچائی ہے۔ مال دار لوگ اب کوٹھے کی بجائے گھریلو عیاشی کے لیے ایسے ہی نرم شکار پر منہ مارتی ہے ۔
اب لڑکیوں
آپ کو بھی حالات کی سنگینی کا اچھے سے علم ھے.
اگر آپ کسی کو اچھا سمجھ کے دوستی یا محبت کررھی ھیں تو یه آپ کی ذمہ داری ھے .
*پلٹو اپنے رب کی طرف*
مرد کے مقابلے میں عورت کی ذمہ داری زیاده ھے که وه اپنے آپ کو بچا کے رکھے۔۔
تو یاد رکھیں چاھے سوشل میڈیا ھو یا ریئل لائف آپ سب ھی محفوظ ھیں جب تک کہ آپ کے لہجے میں کسی نامحرم کے لیے کوئی نرمی نہ ہو.
اپنےآپ پر، اپنے والدین اور ملت آپ پر احسان کرو اپنا آپ بچالو ....
Comments
Post a Comment