والدین کو آیا بڑھاپا۔ہم نے پائ جوانی
*والدین کو آیا بڑھاپا اور پائی ہم نے جوانی*
عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
###################$
والدین بڑے ارمانوں سے اپنے بیٹے کی پرورش تعلیم ،ڈگری ،سروس کے بعد شادی پر خوشی خوشی روپیہ خرچ کرتے ہیں ۔ معاشرے کا دستور بھی یہی ہے کہ چاؤ سے بہو بیاہ کر لا ئی جائے۔ بہو گھر آتے ہی شوہر پر اپنا مکمل قبضہ (اثر اندازی)چاہتی ہے۔میکے والے بھی اسے اکساتے اور الگ رہنے پر
ابھارتے ہیں۔ بعض رشتوں میں تو یہ شرط ہوتی ہے کے الگ رہیں گے۔
"ہم دو اور بس،
تیسرا کوئی نہیں"۔
گھر میں دونوں رشتوں کے اپنے حقوق کو لے کر توقعات اور تحدیدات (Reservations) ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی شکایات کرتے،خامیاں تلاش کرتے اور غلطیوں کے لیے ایک دوسرے کو ذمّہ دار ٹھہراتے ہیں ۔اپنے حق کو پورا پورا وصول کر تے اور اپنے فرائض کی ادائیگی سے بھاگتے ہیں۔
*زمانہ الٹ پھیر کا نام ہے*
*Precious moment*
*والدین کی خدمت سے جنّت ملتی ہے ، اور حقوق کی ادائیگی سے الله کی رضا نصیب ہوتی ہے*-
اللّٰہ کی رضا والدین کی رضامندی میں ہے اور اللّٰہ کی ناراضگی بھی والدین کی ناراضگی میں ہے ( ترمذی)۔
اپنی ماں کے ساتھ،اپنے باپ کے ساتھ اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ حسن سلوک کرو،اس کے بعد جو رشتے دار زیادہ قریب ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو ۔(نسائی)
ماں باپ حقوق زیادہ قریب اور ان کے حقوق کی ادائیگی لازمی ہے۔
فرمایا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
"تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔"
والدین کا ادب واحترام ،اطاعت وفرمابرداری ،ان کی خدمت گزاری ،ان پر اپنا مال خرچ کرنا ،ان کے انتقال پر دعائے مغفرت کرنا ان کے بھائیوں اور دوستوں کی عزت وتکریم کرنے کا ہمیں حکم ہے ۔صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو اپنے ٹوٹے رشتے کو ملائے ۔
واضح اسلامی تعلیم کےباوجود بزرگ والدین کی حالت خراب ہے۔
کسم پرسی ، لاچاری ،بے بسی، بے وقتی اوراپنوں کے ہاتھوں ان کی مٹی پلیت ہورہی ہے ۔
old age homes
کی درد بھری کہانیاں ہیں اور گھروں کی اس سے بدتر دردناک داستان ۔
*جوانی کا خزانہ جس نے بچوں پر لٹایا ہے*
جس باپ نے تنہا پانچ بچّوں کی پرورش کی، تین بھائی مل کر بھی دو بوڑھوں کی دیکھ بھال (باغبانی) نہیں کر پاتے اور باری لگا کر انھیں اذیت اور کوفت پہنچاتے ہیں ۔
اے لوگو ! ماں باپ بوڑھے ہوجائیں تو انھیں آف تک نہ کہو،ان کی خبرگیری کرو،جو تم کھاتے ہو انھیں بھی کھلاؤ۔
کاؤنسلنگ سینٹر پر جو معاملات آرہے ہیں ان میں زیادہ تر اس کی ذمّہ دار مادّیت پرستی کی سوچ اور بہوئیں پائیں گئیں۔بیٹوں (شوہروں)کی آنکھوں پر پردہ اور زن مریدی چھائی ہے۔والدین سے زیادتی،حکم عدولی ،بد زبانی ،ان پر چیخنا چلانا ،ان کی سوچ اور روش کو بوڑھی سوچ کہہ کے ٹال دینا،ان سےگالم گلوچ کرنا،ان کو اپنے ہی گھر میں بے وقت اور بے اثر بنا کر رکھ دینا،جھگڑے اور دل کو پارہ پارہ کرنے والے واقعات عام ہورہےہیں ۔اقدار کا بحران (value crisis)اور بے تاثیر تربیت نے خون سفید کردیے ہیں ۔کچھ بیٹیاں اپنے شوہروں کو راضی کر کے والدین کو اپنے گھر پر رکھ کر ان کی خدمت انجام دے رہیں ہیں ۔ یہ وہ بیٹیاں ہیں جو ملازمت کرتیں ہیں، اس لیے اثر انداز بھی ہوتیں ہیں ۔کچھ غریب اس لیے بھی ساتھ رکھ لیتیں ہیں کہ ان کی پینشن سے ان کی بھی مدد ہو جاتی اور والدین کی خدمت اور دیکھ بھال کی نیکی اور فریضہ بھی۔ وہ بھی کسی کی بہوئیں ہی ہیں۔ اور ساری بہویں بری نہیں ہوتیں ۔بہت ڈی بہوئیں ساس سسر کو ماں باپ کی طرح عزت دیتیں اور خدمت کرتیں ہیں۔ ان پر سلامتی ہو اور اللّٰہ کی رحمت۔
مادیت پرستی اور دنیا طلبی نے انسان کو شیطان کا بھائی بنا دیا ہے ۔
*اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اس ہستی کو باطل کر*
*کہ دانا بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر*
ہر بڑے کام کے آغاز میں ایک عورت موجود ہوتی ہے۔
"There is a woman at the begining of all great things"
ضرورت ہے کہ شوہر کے والدین (ساس،سسر)کو بھی اپنے والدین سمجھ کر ان کی آخری عمر کا سہارا بنا جائے ۔وہ مٹھی بھر سادہ کھانا ، چار دن میں دھلے کپڑوں کا ایک جوڑا،اور دوائیوں کے علاؤہ تو کچھ توقعات نہیں رکھتے ۔کیا ہم بیٹا ،بہو اور پوتے پوتیاں سب مل کر بھی اپنے ان بزرگوں کی اتنی سی خدمت خوش دلی سےنہیں کرسکتے۔
؟؟؟
ایک سماجی ادارہ کی طرف سے ایسے جوڑوں(pairs) کو بلا کر ان کی کاؤنسلنگ کی گئی اور بزرگ والدین کی ضروریات پوری کرنے ،انھیں اپنے ساتھ رکھ کر خدمت کرنے پر ابھارا گیا تو اس کے بہت اچھےّ نتائج سامنے آئے ۔اولڈایج ہوم میں بھی کاؤنسلرجا کر بزرگوں کو حوصلہ، امنگ نئی روشنی اور جینے کی ترنگ پیدا کرارہے ہیں ۔ ان کے بچّوں ،بہووں سے مل کر ان کی بھی کاؤنسلنگ کی جاتی ہے۔
*بطور عبرت ایک سچا واقعہ*
ایک والد نے زندگی بھر کا سرمایہ لٹا کر بچوّں کو اچھّا پڑھا لکھا کر امریکہ میں اچھّی ملازمت کے قابل بنا دیا ۔ کئی سال بیت گئے-جب ممبئی میں ماں کا انتقال ہوا تو چھوٹا بھائی آیا۔ والد نے پوچھا بڑا بھائی کیوں نہیں آیا؟ اس پر چھوٹے نے بتایا کہ "ہم نے ذمہّ دا ری بانٹ لی ہے!!۔اب کی بار ماں کے انتقال پرمیں آگیا، آگلی بار وہ آئیں گے۔؟"!!!!
اے لوگو!
اے جوانوں!
یاد ماں باپ کے بچو!
ابھی آپ نے اپنی ماں کے راتوں کو جاگنا ،تمہاری بیماری میں رات دن تیمارداری،تمہارے گو متر کی برسوں صفائی، دو برس چھاتی سےدودھ پلانا،حمل میں خون پلا کر آبیاری ، زچگی کی کسی ایک تکلیف کا بھی حق کرسکتے ہو؟؟۔
آپ جو کچھ بھی دیتے ہیں وہی پلٹ کر وصول کرتے ہیں ۔
عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری کی زیر ترتیب کتاب پرورش Parenting سے ایک مضمون ۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment