فیملی گائیڈ بک تجزیہ
*اختلافات، موافقت اور ہم آہنگی ۔۔ کانسلنگ سینٹر کا ایک تجزیاتی مطالعہ*
عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری کی زیر اشاعت کتاب
*فیملی کانسلنگ سینٹر گائیڈ بک*
قسط (16)
***************************
ازدواجی زندگی کا سفر ہمیشہ یکساں اور ہموار نہیں ہوتا۔ اس میں نشیب و فراز ، اختلافات اور تضادات بھی پیدا ہوتے ہیں ۔ لیکن اصل کامیابی ان اختلافات کو حل کرنے، موافقت پیدا کرنے اور ہم آہنگی قائم رکھنے میں ہے ۔
*اختلافات کی نوعیت*
ازدواجی اختلافات مختلف پہلوؤں سے جنم لیتے ہیں :
نفسیاتی اختلافات : ذاتی مزاج ، انا ، یا حساسیتب ۔
*معاشرتی اختلافات* خاندانی پس منظر، رسوم و رواج اور سماجی دباؤب۔
*معاشی اختلافات*
آمدنی ، اخراجات اور مالی ترجیحات ۔
*جدید مسائل*
سوشل میڈیا ، ڈیجیٹل فاصلہ، وقت کی کمی اور کیریئر پریشر ۔
*موافقت اور ہم آہنگی*
اسلامی تعلیمات میں اختلافات کے باوجود موافقت اور ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے :
> وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساءب: 19)
"اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔"
یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ازدواجی رشتہ خیرخواہی ، برداشت اور ایثار پر قائم ہونا چاہیے ۔
ہم آہنگی کے جدید ماڈلز
1. کریم بکر کا ماڈل (Karim Bakr Model)
کریم بکر نے ازدواجی موافقت کے لیے ایک جامع ماڈل پیش کیا جس میں درج ذیل اصول شامل ہیں :
*کھلا مکالمہ* : میاں بیوی اپنے جذبات اور خیالات کو بغیر خوف کے ایک دوسرے سے شیئر کریں۔
*احترامِ فرد* : ہر شریکِ حیات کی ذاتی ترجیحات اور آزادی کا احترام۔
حل کی طرف جھکاؤ : مسئلے کو طول دینے کے بجائے حل کی طرف بڑھنا ۔
*معاشرتی سیاق*: ماڈل اس بات پر زور دیتا ہے کہ انفرادی تعلق کو سماجی و خاندانی پس منظر سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔
2. اسکندرانی ماڈل (Iskandarani Model)
اسکندرانی نے مشرقی معاشرت کے تناظر میں ازدواجی ہم آہنگی کا ایک ڈھانچہ تجویز کیا :
روحانی ہم آہنگی: دین ، اخلاق اور اقدار میں یکسانیت ۔
معاشی شراکت : خاندان کی مالی ذمہ داری میں باہمی تعاون ۔
سماجی تعاون : خاندانی نظام اور برادری کے دباؤ کے ساتھ توازن ۔
احساسِ تحفظ : عورت اور مرد دونوں کے لیے اعتماد اور سکیورٹی کا ماحول فراہم کرناں۔
3. پراچہ ماڈل (Paracha Model)
ڈاکٹر پراچہ کے مطابق ازدواجی تنازعات کے حل میں نفسیاتی نقطۂ نظر بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ ان کے ماڈل کی خصوصیات درج ذیل ہیں :
Emotional Regulation (جذباتی نظم و ضبط): غصہ، حسد اور انا پر قابو پانا ۔
Empathy Development (ہمدردی کی تربیت): دوسروں کے احساسات کو سمجھنے اور قبول کرنے کی صلاحیت ۔
Conflict Resolution Skills (تنازعہ حل کرنے کی مہارتیں): مسائل کو بغیر ٹکراؤ کے سلجھانے کے طریقے ۔
Therapeutic Exercises (علاجی مشقیں): جوڑوں کو عملی تربیتی مشقوں کے ذریعے بہتر تعلق کی طرف لانا ۔
تقابلی جائزہ
اگر ہم ان تینوں ماڈلز کا تقابل کریں تو درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں :
کریم بکر ماڈل: زیادہ تر مکالمہ اور احترامِ فرد پر زور دیتا ہے ۔
اسکندرانی ماڈل: روحانی و معاشرتی ہم آہنگی کو بنیادی مانتا ہے ۔
پراچہ ماڈل : نفسیاتی اور جذباتی علاج کو اصل سمجھتا ہے ۔
یہ تینوں ماڈلز ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ تکمیلی ہیں۔ ہندوستانی اور اسلامی معاشرت میں ان تینوں کو ملا کر عملی خاکہ بنایا جا سکتا ہے ، جس سے ازدواجی رشتوں میں ہم آہنگی اور سکون کو فروغ ملتا ہے ۔
TISS (Tata Institute of Social Sciences) اور مختلف بھارتی جرائد میں شائع شدہ مطالعات یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستانی معاشرت میں خاندانی دباؤ ، سماجی توقعات اور معاشی فرق ازدواجی تنازعات کو بڑھاتے ہیں ۔ لیکن وہی مطالعات یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کھلا مکالمہ، مذہبی ہم آہنگی، اور مشترکہ ذمہ داری تنازعات کو کم کرتے ہیں ۔
"اختلافات زندگی کا حصہ ہیں ، لیکن موافقت اور ہم آہنگی سے ازدواجی رشتہ مضبوط اور خوشگوار بنتا ہے ۔"
کریم بکر کے مطابق : مکالمہ اور احترام ۔
اسکندرانی کے مطابق: روحانی و معاشرتی ہم آہنگی۔
پراچہ کے مطابق : نفسیاتی اور جذباتی توازن۔
اسلامی تعلیمات اور جدید ماڈلز کو ساتھ ملا کر ایک ایسا مربوط نظام بنایا جا سکتا ہے جو ازدواجی سکون اور استحکام کو یقینی بنائے ۔
Comments
Post a Comment