تربیت ،پرورش
*تربیت ،پرورش (Parenting)کی ضرورت اور طریقہ کار*
تربیت یہ لفظ عربی سے اردو میں آیا ہے۔اس کا مادہ ہے (ر ب ی) مصدر ،تربیتی کے معنی بچے کی پرورش کرنے ،پالنے ،نگہداشت کرنے اور اسے مہذب بنانے کے آتے ہیں ۔
اصطلاحی طور پر تربیتہ کردار کی نشوونما اور بہتری کا نام ہے۔ اس فن کو انسان سازی،شخصیت گری اور کردار سازی Character Building کا فن کہا جاتا ہے ۔انسان کے حیاتیاتی جسم کی نشوونما سے زیادہ اس کی روحانی بالیدگی ،اس کا اخلاق وکردار ،عادات ،سوچ ،رویے ،مہارتیں ،اعمال ،افکار اسے معاشرے میں اعلیٰ مقام عطا کرتے ہیں ۔
اولاد کا اہم حق ان کی اچھی پرورش ہے اس پرورش کے لیے بے پناہ صبر وتحمل ،ایثار وقربان،دلسوزی اور نرمی اور رحمت ومحبت درکار ہے ۔اللہ نے بچے کی محبت دل میں ڈال کر اس کٹھن فریضے کو انتہائی خوش گوار،دل پسند مشغلہ بنا دیا ہے۔
"پس انسان کے نفس میں گناہ اور نیکی کی استعداد کو القاء کیا گیا ہے".
فرمایا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
"تم سب (راعی)ذمہ دار ہو اور تم سے اپنے ماتحتوں کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔( بخاری،مسلم)
اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا
"اے ایمان والو!بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو جہنم کی آگ سے جس کا ایندھن ہوں گے انسان اور پتھر "( التحریم 06)
*بچے کو پالنے کی خدمت ماں کا اصل کارنامہ*
"اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے بارے میں حسن سلوک کی تاکید کی ہے اس کی ماں نے تکلیف پر تکلف برداشت کر کے پیٹ میں اٹھایا۔پھر اس کو اس نے دوسال دودھ پلاکر چھڑانا ہوتا ہے۔اسے یہ تاکید کی گئی کہ میرا بھی شکر ادا کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی۔تم کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔"(لقمان 14)
اولاد کی تربیت میں ماں کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔وہ اپنے بچے کی جسمانی دیکھ بھال میں نہایت استقلال ،جاں سوزی، ہمت جواں فشانی کے ساتھ اپنی قوتیں کھپا تی ہے۔اس کی گود پہلا مدرسہ ہے۔
(1)بچوں کو پر جوش انداز تربیت Hyper parenting کی نہیں موثر تربیت Effective parenting کی ضرورت ہے ۔آپ تربیت کا وہ انداز اور اسلوب اختیار کریں جو موثر ،مفید اور متاثر کن ہو ۔
(2) تربیت میں اخلاص کا پہلو کافی نہیں ،حکمت کے پہلو کو ہمیشہ نظر میں رکھیے ۔بچےکی آمادگی،موقع محل ،مشکلات کا خیال رکھیں ۔
(3)بچے کی تربیت میں والدین کی اپنی تربیت ,بچے کا مزاج یا سرشت اور اردگرد کا ماحول ۔
(4) بچے کی تربیت کے لیے درست ترجیحات کا انتخاب کریں جو دنیا اور آث دونوں پر محیط ہو ۔اپنی ترجیحات اور رویوں میں ہم آہنگی اور حقیقت کا رنگ دینے کے لیے بھر پور شعوری کوشش کریں ۔
"اولاد کے لیے والدین کا سب سے قیمتی تحفہ اچھی تعلیم وترتیب ہے" ۔(ترمذی)
جو شخص اپنے بچے کو بچپن میں ادب سکھاتا ہے وہ بچہ بڑا ہو کر اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتا ہے ۔۔
بچوں کے مزاق ،رجحان ،جبلت،ذہنی مدارج اورنفسات کے تحت پرورش پر تحقیقاتی مطالعے اور ریسرچ سروے بھی قابل مطالعہ اور مددگار ہیں۔
1823 میں پیاجے نے بچوں کی زبان کا تخیل پر اپنی تحقیق پیش کی ،سٹرن نے نوزائیدہ بچے کی تحصیلات ،تھارن ڈائیک نے تعلیمی نفسیات ،کلا پا ریڈی نے تجرباتی علم التعلیم لکھی۔
جدید تعلیم نے تربیت کو متاثر کیا ہے ،وہ تربیت پر اثر انداز ہورہی ہے ۔دور حاضر میں علم بڑھ رہا ہے اور اخلاقی اقدار کو زوال آ رہا ہے ۔
تعلیم اور تربیت میں فرق
(1)تعلیم شعوریDomain ڈومین کا نام ہے اور تربیت کرداری ڈومین کا ۔
(2)تعلیم کے ذریعے Explosion of knowledge چیزوں کا فہم حاصل ہوتا ہے حقائق ،نظریات، اور معلومات دی جاتی ہے جبکہ تربیت کے ذریعے کسی چیز کو عملی شکل میں ڈھالنے کی علم اور معلومات دونوں کے ساتھ عملی اقدام بھی ضروری ہے. (3)تعلیم حقائق کو جانے کا نظریاتی پہلو ہے ۔جبکہ تربیت اس کا عملی پہلو ۔دونوں کے کے بغیر تربیت ممکن نہیں ۔ دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
(4)تعلیم وترتیب جمع ہو جائیں تو شخصیت کی تعمیر کی شروعات ہو تی ہے جس کے اولین ذمہ دار والدین ہیں۔
Comments
Post a Comment