آنکھ کھلی رکھ کر چلیے

 *آنکھ کھلی رکھ کر چلیے*


جو حضرات تنقید کو پسند نہیں کرتے ہیں، ذمہ داروں سے سوال کرنے کو بے ادبی اور گستاخی سمجھتے ہیں، احتساب کو حرام سمجھتے ہیں اور اجتماعی معاملات میں سوچنے سمجھنے اور سوال کرنے کے بجائے اپنے دماغ پر یہ کہہ کر تالے لگا دیتے ہیں کہ بڑوں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی یہ فیصلہ لیا ہوگا........ ان حضرات کو حضرت مولانا علی میاں ندوی رح کی مشہور کتاب "انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر" سے یہ اقتباس ضرور پڑھنا چاہئے بلکہ بار بار پڑھنا چاہئے 


یہ اقتباس اگرچہ الفاظ کی گنتی کے اعتبار سے بہت مختصر ہے لیکن معانی کے اعتبار سے حضرت مولانا نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے.


خصوصاً دوسرے پیراگراف "وہ جب اپنے معاملات کسی کے سپرد کرتی ہے" میں جو بات کہی گئی ہے وہ ہر مسلمان کو بار بار پڑھنے پڑھانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے بلکہ ہر ادارے جماعت و تنظیم کے دفتر میں لکھ کر لٹکانا چاہیے


کاش کے ہماری قوم کا بھی سیاسی و سماجی شعور اتنا ہی بالغ ہوتا جتنا مغربی اقوام کا ہے تو مسلمانوں  کے ادارے، ان کی سیاسی و سماجی جماعتیں آج اتنی بری حالت میں نہ ہوتی


اب بھی موقع ہے سارے کاموں سے پہلے اپنی قوم میں اجتماعی و سیاسی شعور پیدا کریں، اس شعور کے بغیر ساری کوششیں بیکار اور وقت کا ضیاع ہے


عمران صدیقی ندوی


----------------------------------------------


مغربی قومیں اپنے روحانی اور اختلاقی افلاس اور ان کے تمام خرابیوں کے باوجود جن کی تشریح ہم نے اس کتاب میں کی ہے شہری اور سیاسی شعور کی مالک ہے، وہ سیاسی بلوغ کو پہونچ چکی ہیں، وہ اپنے نفع و نقصان کو پہچانتی ہیں، وہ مخلص و منافق، اہل و نا اہل کے فرق کو جانتی ہیں، وہ اپنی قیادت ایسوں کے سپرد نہیں کرتیں جو نا اہل ضعیف اور خائن ہیں،


*"وہ جب اپنے معاملات کسی کے سپرد کرتی ہیں تو ڈرتے ہوئے اور احتیاط کے ساتھ اور جس مرحلہ پر بھی ان کی نا اہلی یا خیانت کا اظہار ہوتا ہے اور وہ یہ دیکھتی ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کر چکے اور ان کا کام ختم ہو گیا تو ان کو وہ اپنے منصب سے سبکدوش کر دیتی ہیں اور ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لے آتی ہیں جو ان سے زیادہ اہلیت کے مالک اور موقع کے مناسب ہوتے ہیں اس موقع پر کسی رہنما یا معتمد کی سابقہ خدمات شاندار ماضی اور کسی معرکہ میں نمایاں کامیابی اس قومی فیصلہ میں حائل نہیں ہوتی"*


یہی وجہ ہے کہ وہ قومیں سیاسی پیشہ وروں اور نا اہل اور خائن رہنماؤں سے محفوظ ہیں، ان کے سیاسی رہنما اور کے نمائندے بھی محتاط اور امانت دار بننے پر مجبور ہیں، وہ پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں، قوم کی سرزنش عوام کے عتاب و احتساب اور رائے عامہ کی قہرناکی سے وہ لرزہ براندام رہتے ہیں


ماخوذ : انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کے اثر

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان