گھر توڑنے والے تم۔گھر جوڑنے والے ہم
*گھر توڑنے والے تم*
*گھر جوڑنے والےہم*
از: عبدالظیم رحمانی ملکاپوری
9214599910
###########
جس طرح بستے بستے بستی ہے اسی طرح گھر بھی بستے بستے بستے ہیں ۔ریت ،سمینٹ،چھت ،اینٹ سےتو مکان بنتا ہے۔ گھر کی رونق تو اصل میں اس کے خوش رہنے والے مکین ہیں ۔
*جذبات ہمارے*
انسان اپنے چھے جذبات سے مرکب یے۔ مسرت،غم،لذت،خوف، غصہ اور شرمندگی ۔ جذبات کے معنی ذہنی تاثرات،احساسات اور فطری میلانات ہیں ۔
گھر بسانے اور خوش گوار ازدواجی زندگی جینے کے لیے شوہر ،بیوی Spouse کو ٹرینگ لینی چاہیے جیسے کہ دیگر فنون کے سیکھنے میں انسان کوشش سے اسے عروج کمال پر لے جاتا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو مرد اپنے دماغ کے بائیں پہلو کو استعمال کرتا ہے اور عورت دائیں پہلو کو ۔دائیں پہلو کی صفات ہیں ۔جذبات ، خیال ،دور کے خواب ،انوکھا پن ،مترنم آواز اور اچھا ذوق ،نظم و نسق تبسم ،رعنائ،انسیت،رومانیت اور بھولاپن ہے۔ دماغ کے بائیں پہلو کی صفات میں اعدادوشمار ،تجزیہ،ترتیب،منصوبہ بندی اور فیصلہ کرنا ہے۔
اب یہ دونوں فریقین پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کیسے گزاریں ۔لڑجھگڑ کر ،بے نمک،بے کیف ،خاندانی تنازعات کے ساتھ یا خوش گوار ،پر مسرت ،پر وقار۔۔۔
گھر کو جنت بنانے میں بھی دونوں فریقینSpouse کے ذمہ ایک دوسرے کے حقوق بھی ہیں اور فرائض بھی ۔
نفس لوامہ Superego, غصہ Stress اور Depression جہاں اپنا کام کرتے ہیں وہاں سماجی رابطے ،غیبت،حسد، غلط فہمیاں ،چغلی،لگائ بجھائی ،بدگمانی،طنز،نکتہ چینی ،بے جا توقعات ،تحفظات Reservations تمنائیں اور دونوں طرف سے سسرالی رشتے بھی اپنی ذہنی افتاد پر اپنے عمل کو انجام دینے میں لگے رہتے ہیں ۔
*گھر کی بات گھر میں*
عائلی زندگی میں چھوٹے موٹے مسائل ،تنازعات ،تلخیاں،کھٹی مٹھی باتیں ہوتی رہتیں ہیں ۔اس کے ذمہ دار زوجین ،ساس سسر ،سالی ،نند مردوں میں سے دوسرے متعلق افراد اور خاندان کے دوسرے لوگ بھی ہوتے ہیں اور کچھ مالی Aspectsبھی۔
اچھے لوگ اچھا سوچتے اور شر پسند توڑ پھوڑ ۔
ہمارے *سکینت کاونسلنگ سینٹر* پر Post- Marriage Counseling میں گھر جوڑنے اور گھر توڑنے والے رشتے داروں کی ذہنیت کی بہت ساری کیس اسٹڈی موجود ہے ۔
تعلقات کی نا خوش گواری میں مشترکہ خاندانی نظام اور اس میں شوہر و بیوی کے مسائل ،ساس سسر کی حیثیت اور ان کے ساتھ معاملات ، خدمت و نگہداشت کو لے کر مسائل سر ابھارتے ہیں۔دیور جیٹھ، سالی ،نندوں کے معاملات ،گھر داماد کے مسائل ،معاش اور عورت کی ملازمت سے پیدا ہونے والی مادی سوچ اور مسائل بھی ہیں ۔
میاں بیوی کی خوش گوار ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ ، شکر رنجی،ترشی ،بے اعتمادی پیدا کرنے والے عناصر گھات لگائے شک وشبہات کے بیج بوتے رہتے ہیں ۔ویسے ہی تریا ہٹ،ناری ہٹ کو برداشت کرنےکے لیےصبر و حکمت درکار ہے ۔
گھروں کو ٹوٹنے سے بچا نے کے لیے سوچ کے دھارے کو مثبت تعمیری رویہ ،تعمیری اصلاحی عمل،صبر وثبات ،درگزر کرنے معاف کردینے،باہمی حقوق کی رعایت ، دوسرے کی کمزوری کو نظر انداز کر نے کےجذبات کی ضرورت ہوتی ہے ۔
عام مشاہدہ ہے کہ لالچ ،حرص،شوق،بے جا تمنائیں ،عیش پسندی ،ساس بہو کی تو میں میں ،شوہر کو مٹھی میں کرنے،اس پر حاوی آجانے ،زیر اثر کرنے اور الگ رہنے کی خواہش نے گھروں کے سکون کو برباد کیا ہے۔ اس پر متضاد میکے میں اپنی نو بیاہتا بیٹی کا اس کی شادی شدہ بہنوں کے طرز زندگی Status سے موازنہ بھی ہے ۔ اسے سسرال میں ان ان جیسا برتاؤ اور status ملنے کے لیے والدہ محترمہ کی ہمہ وقت دخل اندازی بھی جاری رہتی ہے ۔
اپنے دوست کی بیوی ،اپنے کزن اور بھابیوں سے اپنی بیوی کی عادات،کھانا پکانے ،پہنے اوڑھنے ،گفتگو کرنے میں موازنہComparison ،مثالیت پسندی بھی دراڑ پیدا کرنے میں مدد گار بنتے ہیں ۔ انھیں معلوم ہو کہ اللہ نے ہر ایک کی سرشت اور قسمت الگ الگ بنائی ہے۔
*آنا کے زعم میں خود کو بگاڑنے والو*
*تمام عمر جلو گے قربتوں کی خواہش میں*
ایسی معمولی معمولی باتیں جن کی اصلاح توڑی سی توجہ چاہتی ہے اور وقت گزرتے خود Adjust ہوجاتیں ہیں ان پر بھی گھر توڑنے والے اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ ہنستے بستے اور کلکاریوں سے آباد گھروں کو ویران قبرستان بنانے کے لیے ،الزام ،بہتان،میکے بیٹھ جانے کی دھونس ،کورٹ کچہری وغیرہ تک چلے جاتے ہیں ۔
اپنی بیٹی کو حق دلانے کی جنگ میں اس کی جوانی کی ضرورتیں،زوجی خوشیاں اور معصوم پیارے بچوں سے والد کے پیاراور تحفظ کو چھینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔وہ اس گھمنڈ میں ہوتے ہیں کہ پولس کیس ،کورٹ کے ڈراوے شوہرسے پانچ سات لاکھ وصول کرلیں گے اورایک گھر توڑ کر دوسرا آباد کرلیں گے ۔ اسی آنا و غرور نفس میں وہ اپنی بیٹیوں کو وقت سے پہلے بوڑھی ،مجبور اور دوسروں پر Depend بنا دیتے ہیں ۔
ہمارے *سکینت کاونسلنگ سینٹر* کی کئی کیس اسٹڈی میں ایسی مطلقہ ،خلع لینے والی عورتوں اور مردوں نے بڑے دکھ کے ساتھ اعتراف کیاہے کہ پہلا شوہر،پہلی بیوی ہی موجودہ سے بہتر تھے اگر وہ کچھ Compromise کر لیتے ۔
کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائے
یہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا
اصلاح اور سنبھلنے کا موقع ملنا وقت کی ضرورت ہے۔اس کے مواقعے باقی رکھنے کے لیے کاؤنسلنگ،ٹھنڑا داغ اورد وراندیشی مشورےاور مطالعہ کی ضرورت ہے ۔
*روٹھے کو منانے کی کوشش*
میں تم کو منانے آیا ہوں ،تم دیر نہ کرنا آنے میں
تم معاف کرو جو کچھ بھی ہوا غلطی سے یا انجانے میں
دل صاف کرو تم بھی اپنا ،اب مان بھی جاؤ جانے دو
ماضی کے دریچوں سے یادیں ہم کو بھی ستاتی رہتی ہے
وہ اپنی لڑائی کی باتیں سب یاد بھی آتی رہتی ہے
جھگڑوں کو بھلا کر آجاؤ ،باتیں نہ بڑھاؤ جانے دو
روٹھے کو منانا اچھا ہے ،ہاں میں نے سفارش کردی ہے
اب دیر تمہاری جانب ہے ،میں نے تو گزارش کردی ہے
عرضی ہے میری پیاری، اب ہنس کے دکھاؤ جانے دو
میں تم کو منانے آیا ہوں اب دیر نہ کرنا آنے میں
آپ جو کچھ بھی دیتے ہیں وہی وصول کرتے ہیں محبت کے بدلے محبت ،نفرت کے بدلے نفرت، مثبت رویے کے بدلے میں مثبت رویہ Positive Attitude خدمت کے بدلے احسان Validation۔
آپ سو جتن سے گھر کو جوڑنے والے بنیے۔گھر جوڑنے والا خضر راہ ہوتا ہے اور گھر توڑنے والا شیطان ملعون ۔
آپ تکلیف برداشت کرکے اور قربانی دے کر گھر جوڑنے والے بنئیے ۔
خواہ اس کے لیے اپنے حق سے کم پر راضی ہو جانا پڑے۔
کچھ ایثار و قربانی کرنا پڑے ۔
کسی درجے مالی نقصان سہنا پڑے۔
کچھ سمجھوتا کرنا پڑے ۔ تب بھی جیت آپ ہی کی ہے۔آپ ہی فاتح ،آپ ہی winnere ہیں ۔
*ہماری راہ میں تم نے ببول بوئے ہیں*
*تم اس کے بدلے تازہ گلاب لے جاؤ*
Comments
Post a Comment