ایسی بلندی ایسی پستی

 *ایسی بلندی* 

*ایسی پستی*


###############


آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

*حقوق کی جنگ اور جذبہ انتقام* 


آج  کچھ  مسلم لڑکیاں  یہ کہتی بھی سنی جارہی ہیں کہ ساس سسر کی خدمت کرنا، ان کو کھانا بناکر دینا ،ساس کی تیمارداری کرنا ہماری ذمّہ داری  نہیں ہے۔شوہر خود یہ ذمہ داری ادا کرے۔اپنے والدین کے کپڑے دھوئے،  کھانا بناکر دے، ان کی خدمت کرے ۔اسلام نے انھیں حق دیا ہے کہ وہ اپنے  بچوں کو بھی دودھ نہ پلائے اس کے لیے شوہر دودھ پلانے والی دائی کا بندوبست کرے! ۔ 


*لفظوں  کی دھار*


 خاندان  کےجھگڑوں میں  یہاں تک سنے مل رہا ہے کہ عالمہ باجی کہتی ہیں کہ ایک چھت کے نیچے سسر، ساس، دیور، جیٹھ نہیں  رہ سکتے کیونکہ ان کے رہنے سے  شرعی پردہ  اور دیگر مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔


*خضر کیوں کر بتائے، کیا بتائے*

*اگر ماہی کہے دریا کہاں ہے*



 مرد کی شادی 22سے 25 سال میں  ہوجاتی ہے۔کیا  ہندوستانی میڈل کلاس ،لور میڈل کلاس میں  اس عمر میں لڑکا اتنا کما لیتا ہے کہ ایک علاحدہ گھر لے کر بیوی کو رکھے؟؟؟؟ ۔ گھر بھر کے لوگوں  نے کتنی تکلیف اور قربانی دے کر اسے اس لائق بنایا کہ وہ تعلیم مکمل کرلے، ابھی اس کے پیچھے اور بھائی بہن بھی قطار میں ہیں ۔اپنے والدین اور چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ  کس طرح حسن سلوک  کرے گا؟۔والدین  کو الگ رکھ کر ان کے اخراجات، خادمہ کا انتظام کرسکےگا ؟؟؟۔ابھی تو اس کے باپ نے اپنا سب کچھ  لٹا کر اسے مہنگی تعلیم اور ڈگری کراوائ اور پہلی  بہو  گھر لانے میں  مقروض  ہوگیا ہے۔


مولانا نے بیان  دیا کہ جب بہو اپنی ساس سسر کو کھانا بناکر نہیں دے سکتی، بیماری میں  بوڑھی ساس کی خدمت اس پر لازم نہیں،   ۔۔۔۔۔۔۔ان کی عمومی  خدمت مثلاً  کھانا دینا، کپڑے دھو دینا، دوائ بتادینا ،دیکھ ریکھ کرنا اس پر  دیانتاً اخلاقاً فرض نہیں۔ تو پھر بہو کے ماں باپ کی بھی تو کوئی بہو ہے جو یہی کہہ کر ان کی بھی خدمت سے انکار کردے گی۔


*کرختگی لہجہ میں ہے،  ذرا مٹھاس نہیں* 


*جو دل جیت لے وہ فن ہمارے پاس نہیں*


*تار عنکبوت* 


 شوہر پر بیوی کا نان نفقہ فرض ہے جس کے تحت پیدا ہونے والے بچّے کو وہ دودھ بھی پلائیں گی۔لیکن بیوی کاعلاج کرنا،  بار بارمیکے جانے کا خرچ،مختلف موقعوں پر بیوی کے رشتہ داروں  کی دعوت،  بیوی کے زیورات کی سالانہ زکواة، تحفے اورخرچ کرنا، عمرہ، حج کرانا  فرض نہیں ۔۔۔۔۔شوہر کے باپ کی وراثت سے وہ کس منہ سے گھر پیسے کو استعمال  کرے گی جبکہ اس نے ان سے رشتہ توڑ رکھا تھا۔ مولانا صاحب  نے اسی رویہ کی قانونی بیوی  کا دماغ درست کرنے  کے لیے شوہر سے کہا کہ تم سادہ مزاج، کم پر راضی ہو جانے والی، مطلقہ خاتون سے فوراً دوسری شادی کر کے گھر لے آؤ۔اسے اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ دو کہ یہی انصاف  ہے۔ پہلی بیوی  کو اب تنخواہ کا آدھا حصہ  ملے گا ۔آپ ایک دن پہلی بیوی کے ساتھ  رہو اور ایک دن دوسری کے ساتھ  عدل کرو۔والد  کے مکان میں اسے رکھو لیکن  مکان کا کرایہ بھی ادا کرو۔

مہنگائی اور مسائل کے اس زمانہ میں دو چار ماہ  میں  ہی عقل پر پڑا پتھر  ہٹنے لگے گا اور تنگ دستی میں  شوہر کے  معاشی حالات سمجھ آئیں گے۔۔۔۔۔۔


*بکھرنا، ٹوٹنا اور انا کے ساتھ  بھی رہنا*


میاں بیوی کارشتہ  باہم اخلاقیات، مودّت،ایثار وقربانی، ہمدردی، رحمت اور روداری کا ہے۔ حسن معاشرت کے باب میں  دیانتاً اور اخلاقاً بہت سی چیزیں ایک دوسرے  پر منحصر ہیں۔

آج کے مڈل کلاس  ہندوستانی معاشرے میں  عورت کے اس طرح  کے مطالبات اور واجبی وغیر واجبی  امور کی انجام دہی، حقوق وفرائض کی قانونی جنگ میں خاندان کا نظام  درہم برہم ہو جائے گا ۔ اخلاص رخصت ہوگا اور انتقام اور بدلہ کی بھاو نا جڑ پکڑ ے گی۔بیوی کو چاہیے کہ اس طرح کے مطالبات کر کے اپنی حیثیت کو ڈ انوڈول کرکے مزید بگاڑ کے راستے کو ہوا نہ دے ۔حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھیے یا پھر ایسی حیثیت والے دین دار، مالدار ،زمیندار ،نواب سے نکاح کرے جو اس کے مطالبات پورے کرسکتا ہو۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان