سنگھ اور ہم

 *سنگھ اور ہم*

  پولیس کی توڑ پھوڑ کو دیکھ کر آپ شور مچاتے ہیں کہ تمام سنگھی اور آرایس ایس کے لوگ پولیس میں گھس گئے ہیں۔  جب عدالت کا فیصلہ آتا ہے ، تو آپ چیختے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام سنگھی وہاں بھی گھس گئے ہیں۔  میڈیا کا کوئی پروگرام دیکھ کر آپ کہتے ہیں کہ سارے صحافی بھی سنگھی ہو گئے ہیں۔  تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟؟ کیا آپ کو صحافت سے دلچسپی ہیے؟؟؟؟ یا بس بے ہودہ لطیفے، قصے، فلمیں، گیت ناچ گانے اور بے مقصد  چیٹسے! 


 سنگھ نے پچھلے 95 سالوں سے اس کے لئے سخت محنت کی ہے،  اور آپ نے پچھلے 95 سالوں سے صرف کافر ، منافق ، بدعتی ، گستاخ رسول کے سرٹیفکیٹ تقسیم کیے ہیں اور آپ نے کیا ہی کیا ہے؟؟ 

 جب آپ آر ایس ایس شاخوں میں ٹریننگ چل رہی ہوتی ، تو آپ اس وقت سو رہے ہیں۔   جب سنگھ کے نوجوان اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی کررہے ہوتے ہیں ، تب آپ کے بچے اپنی موٹر سائیکلوں پر آوارہ گردی کر رہے ہوتے ہیں۔ گالم گلوچ ان کی زبان سے جاری ہیے ۔جب سنگھ کے بزرگ رات کو بیٹھے اپنے نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بنا رہے ہوتے ہیں ، تب آپ کے بزرگ چائے کی دکان پر ہنسی مذاق رہے ہوتے ہیں۔  جب سنگھ کا مقامی ذمہ دار اپنے ساتھیوں کو کسی کا م کے کرنے کا حکم دیتا ہیے تو وہ اسے بلا چوں وچراں بجا لاتے ہیں ۔ لمبی بحثیں، کٹ حجتی نہیں  کرتے۔

آپ کے یہاں امیر و معمورین کے باب پر باب احادیث میں لکھے ہیں، کاموں پر عمل آواری سے دنیاوآخرت میں اجرو ثواب  لکھا ہیے لیکن اس سے دوری بنی ہیے۔وہ قوم کی کامیابی کے لیے انتھک محنت اور قربانی دے رہیے ہیں اور آپ ملت اسلامیہ کی تنظیم نظم وضبط،منصوبہ وسرگرمی سے محروم ہیں۔وہ اپنے بچوں کو سنگھ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر ابھارتے ہیں اور آپ کی جماعتیں ایسی سرگرمیوں کو  باطل ،کافر ،عیسائی مشن،منافق،دین سے دوری،کہتی اور منظم ہونے والوں کی صفحوں میں دراڑ یں ڈالتی ہیں- جب سنگھ کے نوجوان نوکریوں کی تیاری کر تے ہیں ، تب آپ کے جوان لوڈو، کیرم، ٹکٹاک گیم، عاشقی، اورسیلفی میں مگن ہیں ۔دنیاومافیہا سے بے پرواہ! 


 پھر حولدار سے لے کر ڈی آئی جی تک ، ان کے آدمی ہوں گے یا آپ کے؟  چپراسی سے لے کر جج تک ان کے آدمی ہوں گے یا آپ کے؟؟؟ آپ کے مدارس کے فارغین کہاں ہیے۔کیا وہ اپنے سبق پر عامل ہیں؟؟؟؟؟؟ 

سنگھ کی 103ذیلی جماعتیں ہیں اور ان کی پذیرائی ہیے،ہر شعبہ زندگی میں کام ہیے۔آپ دو چار ونگ بناتے ہیں تو واویلا اور انتشار ہیے، ٹانگ کھینچنا آپ کا شیواہ ہیے۔ صالح قیادت، صالح اور مخلص لوگوں  کو کنارے لگاتےہو۔ابھرنے نہیں دیتے- اداروں، انجمنوں، جماعتوں پر الزامات اور شک کرنا آپ کی عادت بن گئی ہیے۔ منفی سوچ نے آپ کو بے عمل، کاہل، بزدل اور ڈرپوک  بنادیا ہیے۔خود کچھ نہ کریں اور دوسروں کے کاموں کا موازنہ فرشتوں اور صحابہ  کے کام اور معیار سے کرتے ہیں۔

پہلے خود کو بہتر بنائیں اور پھر دوسروں سے سوال کریں۔پہلے نظم وتنظیم، قربانی، ملی مفاد، اپنی تاریخ کا مطالعہ اور ملت کی ضرورت کے لیے منصوبہ بند کوشش سیکھیے ۔پھر دیکھیے اس کے نتائج ۔ پہلے حوصلہ افزا ئی کیجیے، ہر تنظیم وجماعت میں نقص نکالنا، اور صرف خود کو بسم    اللہ کی گنبد میں رکھنااور جنتی کہنا بند کیجیے۔ مل جل کر کام کرنے کے مواقع پیداکیجیے۔ تعلیم، صحت، ورزش، ملی ،دینی،سیاسی شعوراورڈیسیپلین، پر   دوسروں کی طرح محنت کیجیے ۔ملت میں جو تنظیمیں، تحریکیں، جماعتیں  موجود ہیے ان کا ساتھ دیجیے۔اپنے بچوں  کو با اخلاق، نیک صفت، عصری ودینی تعلیم سے جڑے لوگوں  کی سنگت دیجیے۔چراغ سے چراغ  جلیں گے، دس بیس برسوں میں نتیجہ  سامنے ہوگا۔

#Akaram Khan

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان