لڑکی کا شادی کے بعد اصل گھر

 *عبدالعظیم  گوونڈی، ممبئی* 

9224599910

++++++++++++++++++++++++++++++++++++


*شادی کے بعد اصل گھرشوہر کا گھر*


حمیدہ 40سالہ ملازمت پیشہ خاتون ہے- جس کی شادی کم پڑھے لکھے 30سالہ انور سے ہوئی - انور پرائیویٹ سیکٹر میں معمولی  کام کرتا ہے- شادی کے بعد اس امید پر کہ بیوی کی تنخوا معقول ہے وہ Idle سست اور نکما ہوگیا-بیوی کی تنخواہ  پر منحصر ہوگیا-حمیدہ کو 32 سال کی عمر میں  رقم دے کر ملازمت ملی ہے جس کے لیے اس نے  بڑی رقم قرض لی تھی اور شادی کے وقت تذکرہ نہیں کیا تھا - وہ اپنی تنخواہ  کا 40% قرض کی ادائیگی میں دیتی ہے -اس بات کو لے کر سال بھر ہی میں  تنازعات نے جنم لینا شروع  کیا۔حمیدہ کی بہنوں نے اسے نوکری کرنے کو ترجیح دلائی اور حمیدہ جھگڑ کر میکے چلی آئی-

عبدالصمد تندرست، درمیانی اخلاق والا شوہر ہے جو joint family  میں  رہتا ہے۔

اس کیس ہسٹری میں بہت بگاڑ نہیں تھا۔

کاؤنسلر سے رابطے میں آنے کے بعد ایک دو نشستوں میں مسئلہ حل ہوگیا-

عبدالصمد اپنی بیوی  کے بغیر نہیں رہ سکتا- مزاج کا تیز ہے اس لیے کبھی کبھار  بیوی کی بدزبانی پر اور ماں باپ کے کان بھرنے سے  حمیدہ پر ہاتھ بھی اٹھا دیتا ہے-سال بھر کی علیحدگی میں  اس نے بیوی کو کئی فون بھی کیے لیکن تنخواہ کو لے کر حمیدہ کے بہن بھائی اسے سسرال  بھجوانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔

حمیدہ کی عمر 43 سال ہے، کوئی اولاد نہیں  ہے-ہمارے کاونسلنگ سینٹر

سے جو مشاورت دی گئی وہ رنگ لائی اور اب حمیدہ اپنے شوہر کے ساتھ الگ رہبے لگیہے- قرض بھی ادا ہوریا ہے-شوہر کی کمائی سے ان کے والدین  کو بھی ہر ماہ  کچھ اچھّا ہی ملنے لگا۔عبدالصمد ان کے حقوق بھی ادا کرتا ہے ۔اب ان کے یہاں ایک  بچّہ ہے جو  سب کی خوشیوں کا مرکز ہے۔

آج فون کر کے حمیدہ نے اپنے شوہر سے خود پہل کر کے بات کی اور اسے گھر کے روایتی ماحول اوراہل خانہ کی مداخلت سے بچنے کے لیےبجائےگھر کے قریب کے ہوٹل میں ملاقات کے لیے مدعو کیا-عبدالصمد تو بےتاب تھاہی- دونوں کی ملاقات ہوئی -آج حمیدہ نے اپنے شوہر کی پسند کے کپڑے پہنے، اس کی پسند کی خوشبو لگائی، بالوں میں  گجرا لگایا اور وقت سے پہلے استقبال کو پہنچ گئی -ساتھ کھانا کھاتے ہوئے بڑے رچاؤ سے گویا ہوئی۔"صاحب میں آپ کو یاد کرکے راتوں کو روتی ہوں، میں تو آپ سے ٹوٹ کر پیار کرتی ہوں -نمازوں میں اپنی خوش گوار ازواجی زندگی کے لیےالله سے دعائیں کرتی ہوں- آپ کے حسن سلوک میں سے اس کا احسان مانتی ہوں کہ آپ نے اپنے سے 10سال بڑی عورت سے شادی کی- مجھے پیار دیا،درجہ دیا عزت دی-"

ارے صاحب قرض کی ادائیگی بس دو چار سال ہی کی  تو بات ہے ۔شکر ہے کہ قرض دے کرپھر بھی اتنا بچ جائے گا کہ اسی محلے میں  کرائے کے گھر میں آپ کے پہلو میں رہیں گے اورگھر بھی اچھّے سے چل سکےگا۔آپ بھی اسی شہر میں کچھ کام تلاش کر لیجیے۔میرا وعدہ ہے کہ اس رقم سے تم اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی مدد کرتے رہنا میں کبھی بھی رکاوٹ نہ بنوں گی-

ان چار سالوں  میں  قرض کی ادائیگی مکمل ہو جائے گی- پھرتنخواہ بھی تمہاری !میں بھی تمہاری!! میری نوکری پیسہ بھی تمہارا حق ہوگا۔ پیارے بچوّں سے ہمارا گھر آباد ہوجاٰئےگا-"

عبدالصمد سوچ کر تو بہت کچھ آیا تھا ،تذبذب اور اندیشے تھے پر جب اس قدر مثبت بدلاؤ دیکھا تو پگھل گیا۔اپنی غلطی کا اعتراف کرنے  لگا-آئیندہ خوش گوارازواجی  زندگی کے لیے بے قرار اورجذباتی ہوگیا- وعدے وعید کیے کہ زندگی میں کبھی ہاتھ نہ اٹھائے گا- اگلے ہی ہفتہ مکان ملتے ہی امّی کے ساتھ گھر آکر  لے جانے پر تیاّر ہوگیا-

کاؤنسلنگ نے  اپنا اثر دکھایا، حمیدہ کی کاؤنسلنگ سے بنی ایک تعمیر ی 

 نے گھر کو بکھراؤ سےبچا لیا -

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان