والدین کی مشترکہ تربیت یا کسی ایک کی تربیت کے مسائل

 *والدین کی مشترکہ تربیت یا کسی ایک کی تربیت کے مسائل*

Problems of

Co - parenting or

 Singal  parenting 


بچوں کی پرورش اور ان کی نگہداشت ایک  ذمہ دارانہ اور چیلنجنگ کام ہے  ۔ماں ،باپ ،دادا دادی ،نانا نانی سب کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے آنگن کی کیاری مہکے،برگ وبار لائے پھولے پھلے۔ان کی بے شمار نیک نیتی کے باوجود بچوں کی تربیت کے انداز،سوچ اور طرز تربیت میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ مشترکہ خاندان میں رہنے والے اپنے نظریے ،اپنی سوچ ،اپنے بچپن کی قدروں کے مطابق بچوں کی،پرورش ،سلیقہ،طور طریقوں اور خاندانی تہذیبی روایات کے مطابق تربیت کے قائل ہوتے ہیں ۔

بہو دوسرے گھر سے آتی ہے ۔اس کا اپنا خاندانی مزاج ،تعلیم ،سوچ صد فی صد میل نہیں کھاتی۔

مثلاً باپ سخت مذہبی اور روایت پسند گھرانہ ہو اور ماں جس گھرانے سے آئی ہے وہاں کا ماحول دوسرا ہو ۔باپ  سخت ڈسیپلین کا پروردہ ہو اور ماں بچوں کے جذبات ملحوظ رکھتی ہو ۔باپ محتاط طبعیت کا مالک اور کفایت شعار ہو اور ماں بچوں کو مختلف تجربات سے گزار کر نڈر ،جری اور بہادر بنا چاہتی ہو۔ اس کی پرورش کھلے ہاتھوں خرچ کرنے کی ہو ۔اس سے بچے کی شخصیت میں confusion پیدا ہوتا ہے ۔ کچھ بچے ان تضادات طبعیت کا فائدہ اٹھا کر کبھی ماں کی طرف کبھی باپ کی طرف ہو کر اپنی بات منوالیتے ہیں ۔نتیجے میں ماں باپ کے درمیان عزت نفس مجروح ہو کر تلخی کا باعث بنتی ہے۔

بچہ اپنے دوست کی فیملی کے ساتھ کشتی  رانی کے سفر اور آؤٹنگ کے لیے جانے کی اجازت ماں سے طلب کرتا ہے ماں اسے احتیاط کے تقاضے کے خلاف سختی سے منع کردیتی یے۔اب جو باپ کی طرف رجوع ہوتا ہے جہاں اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔اب بچہ باپ سے متوقع ہے کہ وہ ماں کو منا لے۔باپ کہتا ہے کیا تم اپنی اور اپنے خاندان کی طرح اسے ڈرپوٹ اور نئے تجربات سے محروم رکنا چاہتی ہو؟اس ہر گرما گرم مباحثہ ہوتا ہے اور باپ اپنی آنا نیت کی خاطر جیت کا اعلان کر کے کلی اجازت دے دیتا ہے ۔بچہ فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ماں کو دیکتاہے اور ماں پیر پٹختی ہوئے وہاں سے چلی جاتی ہے ۔

کیا یہ مشترکہ تربیت کا انداز درست تھا ؟؟؟

دادا،دادی اپنے ہوتا ہوتی کی اندھی محبت میں والدہ  کی سخت گیری ،فوجی ڈسیپلین ،سزاوتعدیب میں رکاوٹ بن جاتے ہیں اور بہو کو الزام دیتے ہیں کہ اسے بچوں کی تربیت کا تجربہ نہیں ہے۔ اس لیے اس کا طریقہ غلط ہے۔اپنے لاڈ پیار اور تجربہ کار ہونے کے چکر میں بچوں کی ماں کو کوئی حیثیت نہ دینا بچوں کی شخصیت پر برا اثر ڈالتا ہے۔ ماں کو چاہیے کہ وہ بچوں کو باپ  کے احکام کا پابند بنائے۔باپ کو چاہیے کہ وہ ماں کی باتوں کو منوائے اور اس کے لیے گئے فیصلے کو کم تر نہ کرے۔بچے اپنی من مرضی دادا، دادی کی چھتر چھایا سے منوالیتے ہیں ۔بعض مرتبہ نانا ،نانی بھی اپنے پیار دلار اپنی مخصوص سوچ اور طریقہ کے مطابق اپنی بات منوانا چاہتے ہیں ۔

بچوں کی تربیت کے اصل حق دار والدین ہیں ۔گھر کے بڑے اگر مشورے دیں کچھ سمجھائیں یا اپنے تجربے سے انہیں مستفید کریں تو یہ بہت ہی بہتر بات ہوگی۔

ایک ہی معاملے میں ماں باپ دو متضاد احکامات نہ دیں ۔


Single parents


حسن صورت پہ نہ نازاں رہے کوئی اتنا


ہم نے دیکھا ہے گلستاں کا بیاباں ہونا


ماں باپ کے آپسی  بے بناؤ، علحیدگی ،جھگڑے طلاق،والد کا دوسرے ملک میں برسر روزگار برسوں رہنا ،Divorce،بیوگی کی صورت میں ماں کو  معاش کی فراہمی اور بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کمانا بھی پڑتا ہےاور بقیہ وقت میں  نگہداشت بھی۔ اکیلے  ماں کو پرورش و تربیت کی دوہری ذمہ داری نبھانی پڑتی ہے ۔ماں ممتا کی مورت ہوتی ہے ۔ وہ شفقت میں سب سے بڑھ کر بچوں پر جان وارنے والی رحم دل ،صابراور بچے  سے زیادہ قریب اور اس کو زیادہ سمجھنے والی ہوتی ہے ۔

اگر ماں نے اپنی مرضی خلع لیا ہو  اور بچے اپنے پاس رکھے ہوں تو وہ بچوں کے باپ سے متعلق سوالات کے جواب میں باپ سے نفرت پیدا کرنے کی پوری کوشش کرتی ہے ۔اگر شوہر نے طلاق دے دی تو اس کے ظلم اور برے رویہ کو بیان کر کے نفرت کے بیج بوتی ہے اور اسے ویلین بناکر پیش کرتی ہے۔ طلاق کے بعد بچے اگر باپ کی پرورش میں ہوں تو وہ ان کی ماں کی برائیاں ،ضد ، ہٹ دھرم، بری بعض صورتوں میں بدکردار بتا کر کے ان کی پیدا کرنے والی کو ویلین بنا کر پیش کرتا ہے۔ بچوں کو ماں کی سرشت کے طعنے دیتا ہے۔ معاشرے میں ایسا ممکن ہے کہ عورت طلاق لینے کے بعد دوسری شادی کرلے اور  وہ اس کی زوجیت میں رہے پھر فطری طور پر بہ رضاو رغبت اس عورت کو طلاق دے دے یا اس کا انتقال ہو جائے تو وہ عورت پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔اسکیم کا حالہ کرنے کرانے والے کو  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے

کرایے کا سانڈ کہا اور اس  پر  لعنت بھیجی ہے ۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت اور مستقبل  کی پرورش کے سلسلے میں اپنے درمیان کی تلخیوں، شوہر کے ظلم پر صبر اور ایثار کا مظاہرہ کریں ۔ موافقت کی صورت باقی رکھیں ۔بڑا فیصلہ لینے سے پہلے اپنے بچوں کی خاطر سمجھوتہ کرلیں اگر ممکن ہو!!! ۔

معاشرے میں ایسی ایثار پیشہ نیک اور صابر ماؤں نے اپنے بچوں کی خاطر بڑے ظلم وستم برداشت کیے ہیں ۔ سماج ایسی ماؤں کو جنتی اور ان کے قدموں میں جنت کو دیکھتااور انھیں احترام  دیتا ہے ۔اءسی مائیں اپنے بچوں کے لیے عظیمت کا مینار بن کر ایک تاریخ رقم کردیتں ہیں۔ بد قسمتی سےاگر رشتہ مناکحت میں  رہنا ممکن نہ ہو اورعلحیدگی کی  نوبت آ ہی جائے تب بھی ایک دوسرے کے خلاف بچوں کے ذہنوں میں نفرت نہ بھریں بلکہ ان کی سمجھ کے مطابق جواب دے کر ٹال دیں ۔ 


دشمنی جم کے کرو لیکن یہ گنجائش رہے

 

ہم کبھی دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں


اکیلی ماں کے پیار اور ہمہ جہت توجہ سے بچہ باپ کا غم بھول جاتا ہے البتہ باپ اس طرح تربیت نہیں کر سکتا کہ بچے کو ماں کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو ۔ باپ طلاق کے بعد چھوٹے بچوں کی پرورش کے نام پر دوسری شادی کرلیتا ہے اور جیسے تیسے سوتیلی ماں کے زیر اثر بچوں کی پرورش ہو ہی جاتی ہے۔عورت طلاق ،خلع لینے کے بعد اگر بچے اس کے ساتھ ہوں تو دوسرا نکاح کرنے میں رکاوٹ آتی ہے ۔دوسرے کے بچے کو پالنے کے لیے اکثر مرد تیار نہیں ہوتے ۔ایسی صورت میں ماں دوسری شادی نہ کرتے ہوئے اس بچے کے سہارے اپنی جوانی قربان کر دیتی ہے ۔


پر کیا لگے کہ گھونسلے سے اڑ گئے سبھی 


پھر وہ اکیلی رہ گئی بچوں کو پال کر


کچھ صورتوں میں بچے نانا نانی یا خالہ ماموں کے سہارے پل جاتے ہیں ۔ان کی تربیت کے نفسیاتی اور دینی مسائل ہوتے ہیں ۔ ایسے بچے یتیمی اور ترس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔بعض ذہین اور حساس فطرت  بچے ڈپریشن کا شکار بھی ہوجا تے ہیں ،کچھ سماج اور رشتوں کے باغی بھی۔

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان