بچوں کی کاؤنسلنگ

 *بچوں کی  کاؤنسلنگ*

children Counseling

بچّے سب کے دلارے، سب کے پیارے  ہوتے ہیں ۔موبائل اور انٹرنیٹ کے اس دور میں چھوئی عمرہی سے ان کے ہاتھوں میں موبائل گیمس، مار دھاڑ والے سریل، بدتمیزی  سے پیش آنے کے مناظر اور شرارتی بچوّں کی عادتیں وہ رات دن دیکھتے رہتے ہیں اور لاشعور  میں   محفوظ  کرتے جاتے ہیں۔


*ہمارے کاؤنسلنگ سینٹر پرموصول والدین کی بچوّں کے تیئں بنیادی شکایات میں سے چند ایک*


(1) ہمارا بچّہ موبائل کے بغیر نہیں رہ سکتا۔!!الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں آنکھیں  گاڑے رہتا ہے۔Addiction ہوگیا ہے۔

(2) کھانا نہیں کھاتا؟ Junk Food پر جیتا ہے۔موٹاپے کا شکار ہے ۔

(4) ہماری بات نہیں مانتا، پلٹ کر جواب دیتا ہے۔بہت  غصّہ اور تشدّد کرتا ہے! اپنے فیصلے  اپنی مرضی سے کرنے کا عادی اورہٹ دھرمی کرتا ہے!! 

(4) اپنے ساتھی بچوّں سے جھگڑتا ہے، بد اخلاقی کے ساتھ گالم گلوچ اور فحش زبان استعمال کرتا ہے ۔اپنی چیز کسی سے شیئر نہیں کرتا۔ہوم ورک نہیں کرتا۔پڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتا۔

(5)دوڑ بھاگ، اور جسمانی  تھکاوٹ کےکھیلوں میں حصّہ نہیں لیتا۔


*حل آپ ہی کو نکالنا ہے*


(1) بچوّں کی ذہن سازی اور تربیت بھی آپ ہی کی ذمّہ داری ہے۔

(2)حقیقی دنیا کے دوست بنائیں  ،نہ کہ سوشل میڈیا  کے! 

(3)انٹرنیٹ کا بے موقع اور غلط استعمال پر قدغن لگائیں ۔

(4)مثبت اور کار آمد تخلیقی و تحقیقی کاموں، کتب کے مطالعے میں انٹرنیٹ کے استعمال کی اجازت دیں ۔

(5)بچوّں کو ورزش، سیر، چہل قدمی ،فٹ بال اور محنت کے کھیل کی ترغیب دلائیں 

(6)لڑکیوں میں tik tok,Snapchat, Instagram کے استعمال پر پابندی لگائیں اوران کے استعمال پر نگاہ رکھیں ۔


Counseler(7) سے مشورہ لیں-

(8) بچوّں میں دینی شعور کی بیداری 

پیداکریں۔ 

(8)اپنے عمل اور راز مرہ سے بچوّں کو حدود اسلامی اور اخلاقیات کا نمونہ پیش کریں ۔

(9)کالج میں تعلیم حاصل کر رہے بچوں کی دینی نہج پر تربیت کے لیے اسلام کے عقائد اور اجتماعی سرگرمیوں کے لیے معاشرے میں دینی گروپس اور طلبہ کی ملک گیر اسلامی تنظیموں سے  لڑکے، لڑکیوں کو جوڑا جائے ۔یہ صالح اجتماعیت ہمارے بچوّں کو جہاں دینی فکر کا حامل و علم بردار اور صالح نوجوان بنائے گی وہیں ان کے اندر پوشیدہ skills کو پروان چڑھانے کے لئے ایک وسیع پلیٹ فارم فراہم  کرےگی ۔


*صحبت صالح  ترا ،صالح کنند*


*صحبت طالع ترا ،طالع کنند*


ان سے وابستہ بچّے اللہ سے ڈرنے والے، نمازی، با اخلاق، محنتی اپنے career میں آگے اور اپنی زندگی کی کلفتوں سے حوصلہ و جرأت کے ساتھ پنجہ آزمائی کرنے والے ہوں گے۔


       ان تدابیر کے علاوہ حسب ضرورت counsellorکی مدد لے کراپنے بچوں کی خاص معاملات میں Counsellingکرانی چاہیے ۔ سماج میں موجود *خاندانی مفاہمتی  مرکز*

Family Counselling Centre 

کی مدد لینی چاہیے ۔

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان