حقوق،فرائض اور خاندان

 *حقوق وفرائض اور خاندان*


*عبدالظیم رحمانی ملکاپوری*

*9224599910*

*******************

خاندان بنیادی طور پر معاشی تنظیم ہے۔معاشرتی زندگی حقوق وفرائض کے احساس کا نام ہے اور باہمی ارتباط کا ادراک اس کی روح ہے۔خاندانی ہم آہنگی کے معنی یہ ہیں کہ مرد عورت کے تعلقات  خوش گوار پر مسرت اور سرائے عہد گل ہوں،اولاد کی تربیت اور بزرگوں کی بھر پور  نگہداشت ان کا ادب و مرتبہ بھی مستحکم ہو ۔

اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔

 خاندان کے نظام میں ٹوٹ پھوٹ بکھراؤ ،خود غرضی ،لالچ،خود پسندی،زیادتی ،منافقت ہے۔ اب آپسی رابطوں میں رشتوں کی پاس داری کم ،جذبہ ایثار مفقود ، حسن ظن ،حسن نیت،حسن عمل کی کمی عام سی بات ہے۔ خوش خلقی ،خوش مزاجی ،مروت،عفوو درگزر ،صبر وتحمل  ،احسان مندی کی کمی نے خاندان کے تانے بانے  کو ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔

گھر گھروندوں کی تقسیم در تقسیم اور خانگی جھگڑے اب  دشمنیوں میں بدل رہے ہیں۔ اخوت ،محبت،خیر خواہی  نے خود غرضی کی جگہ لیتے ہوئے اب دوسروں کے حقوق کی پائمالی تک جا پہنچیں ہیں۔



*حیات انگڑائی لے رہی ہے زمانہ کروٹ بدل رہا ہے*


بے سکونی کو سکون میں اور نا خوش گوار ی کو خوش گواری میں بدلنے کے لیے اسلام کی تعلیمات نے صلہ رحمی،حسن سلوک  اور فرائض کی ادائیگی پر ابھارا ہے۔


*عائلی زندگی میں جو بیوی کے حقوق ہیں وہ شوہر کے فرائض اور جو شوہر کے حقوق ہیں وہ بیوی کے فرائض ہیں۔*

حقوق اور فرائض گاڑی کے دو پہیے ہیں جو مساوی چلتے ہیں۔ حقوق وفرائض ایک سکے کے دو رخ ہیں ۔اپنے نقطہء نگاہ سے دیکھیں تو وہ حقوق ہیں دوسرے کے نقطہء نگاہ سے دیکھیں تو وہ فرض ہیں ۔حقوق و فرائض ایک ساتھ کہے جانے کا مطلب ہے کہ حقوق کی ادائیگی کو فرائض کی ادائیگی پر فوقیت دی جاتی ہے ۔ یہ Give and Take کا رشتہ ہے ۔اگر ایک امر کسی کا حق ہے تو دوسرے کا وہ فرض ہے ۔حقوق کے حصول کا واحد راستہ فرائض کی ادائیگی ہے ۔یہ قوت تبادلہ Exchange Power ہے ۔اگے پیچھے ہونا Move back and Forth اور واپس آنا  Coming Back ہے ۔

خوش اخلاقی سے پیش آنا،نرمی اور احسان کی روش اختیار کر نا،خرچ میں تنگی نہ کرنا، محبت کا بھر پور اظہار کرنا،خانگی امور میں تعاون کرنا،بیوی کی خدمات کا اعتراف کرنا،ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ،حسن سلوک، ہمدردی، بے لوثی، تعاون باہمی، غیر متوقع حالات کا مقابلہ ،مسائل پر قابو پانا، بیوی سے محبت ،دلجوئ،عفوودرگزر خاندانی تعلقات میں انتہائی ضروری ہیں۔ خاندان میں مرد زیادہ ذمہ دار اور اس کا زیادہ مکلف ہے ۔


تفکر،تدبر ، تفقہ ، تعقل

تجاہل،تغافل،تبسم،تکلم


*ایک موزوں ترین بیوی  کی اہم خصوصیات میں سے*۔۔۔   ۔۔۔۔۔۔۔ 

 دین داری ،کشش،عقل و شعور، پیار و محبت،نرم مزاجی،مہربانی ومٹھاس ، (شیریں زبانی) مدد ،صبر و تحمل ،معقول رویہ،بے غرضی ،ایثار پیشگی ، تحمل مزاجی ،خندہ پیشا نی، صلح جوئی ،عزت  تکریم  و تعظیم ،متانت ،فرض شناسی،وفاداری،کفایت شعاری ،عیب پوشی اور تواضع ہے ۔ 

گھر کے بنے اور بگڑنے میں بیوی کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے ۔

شوہر کی اطاعت ،آبرو کی حفاظت ،شوہر کی رضا جوئی ،شکر گزاری اور احسان مندی ،شوہر کے گھر بار اور مال کی حفاظت ،اس کے بچوں کی نگرانی و تربیت،صفائ ،سلیقہ اور آرائشِ وزیبائش Decoration۔ شوہر کے لیے بناؤ سنگھار ۔ اس رشتے  کی خوبصورتی ہے ۔

عورت کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بن کےرہے،اپنی تمام دلچسپیاں اس کے لیے مخصوص کر دے اور یہ طے کر لے کہ اب خوشی خوشی پوری زندگی اسی کے ساتھ نباہنا ہے ۔

ازدواجی زندگی کو خوش گوار بنائے رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ میاں بیوی دونوں ہی اپنے اپنے فرائض منصبی کا حقیقی شعور واحساس پیدا کریں،اور اپنے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے  خلوص ،دلسوزی اور مستعدی سے وہ  اپنے حصے کی ذمہ داریاں انجام دیتےرہیں ۔اگر دونوں میں سے ایک نے بھی اپنے فرائض میں کوتاہی کی تو خوش گوار گھریلو زندگی کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا اور حقوق وفرائض کی لڑائی عائلی رشتوں کو برباد کر دے گی ۔

"کتنے اچھے ہیں وہ جو اپنے حق سے کم پر راضی ہو جاتے ہیں اور دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ عطا کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں" ۔

"جو اپنے زوج Spouse کی خوبیوں کو دیکھتے اور خامیوں کو نظر انداز کرتے ہیں ۔"

یہ وہ Tools ہیں جو تناؤ کو کم کرنے،تعلقات کو استوار کرنے،تنازعات Conflict کو حل کرنے اور زندگی کو مطمئن گزارنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ ان سے Emotional Crises جذباتی بحرانوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔


حقوق وفرائض کی لڑائی میں ذیل میں درج قباحتوں سے بچنا بھی ضروری ہے ۔


منھ پھٹ ہونا ،بد سلیقگی ،پھوہڑ پن،بد زبانی،بد کلامی ،چیخنا چلانا ،بات بات پر ناراضگی ،روٹھ جانا ،قطع کلامی،طنز، عار دلانا ،نکتہ چینی،اللہ کی تخلیق میں  عیب نکالنا،کسی بھی اختلاف کو آنا اور وقار کا مسئلہ بنالینا،بیوی پر طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنا،چھوٹی  چھوٹی باتوں پر جھگڑا ، بحث مباحثہ ،میکے چلے جانے کی دھمکی، گالی گلوچ ،مار پیٹ وغیرہ 


تم چاہو تو دو لفظوں میں طے ہوتے ہیں جھگڑے


کچھ شکوے ہیں بے جا مرے کچھ عذر تمہارے


 نوٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"سکینت کاونسلنگ سینٹر  سےایک کیس اسٹڈی پر عمومی ہدایات " مضمون 7

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان