مجبوری کے رشتے
*مجبوری کے رشتے*
Forced relationship
*خوشی کے رشتے*
Relationship of HAPPINESS
*عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری*
###########
ازدواجی رشتہ بنانے سے بنتےہیں ۔دیگر خاندان کے رشتے blood relation سے بنتے ہیں اور توجہ،حقوق و فرائض کی ادائیگی اور درگزر سے نشوونما پاتےہیں ۔ ان رشتوں کو جوڑے رکھنے کے لیے کبھی اندھا ،کبھی بہرہ ،کبھی گونگا بنا پڑتا ہے ۔
فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
"*دنیا فائدہ اٹھانے کی چیز ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ فائدہ دینے والی چیز نیک بیوی ہے* "۔
رشتے بندھن ہیں یا مجبوری
شادی بغیر زندگی ادھوری
خوشی کے رشتے لڑکی کی 18 سے20سال کی عمر میں آنے لگتے ہیں تو گھر بار کے سبھی لوگ خوش ہوتے ہیں۔خوشی خوشی اپنے رشتے داروں کو بتاتے ہیں۔یہ خوشی کے رشتے ہیں ۔دو دہائی پہلے تو 15سے 16سال میں لڑکیوں پر رشتے آبھی جاتے اور سال دو سال میں اس کی گود بھی ہری ہوجاتی ۔
*ثمر کچے ہوں یا پکے رشتے آنے لگتے ہیں*
اب لڑکی کی عمر کا 18سال ہونا ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی اعلی تعلیم ،ہائیر ایجوکیشن ، ڈاکٹری ،ماسٹر ڈگری،بزنیس مینیجمینٹ،آفیشیل مینیجمینٹ کے حصول تک عمر ہوگئی 26 /27سال۔اب ملازمت کا نشہ بھی ہے اور ضرورت بھی ہے۔ تعلیم پر خرچ کیے گئے پیسے کی وصولی اور پیسے کمانے کا جنون ۔لڑکی کی عمر ہورہی ہے 30سے 32سال ۔دو چار سال نوکری کر کے اپنے دبے ارمانوں کو پورا کیا جارہا ہے۔فیشن اور کپڑوں ،چیزوں میں برانڈ کی ڈمانڈ ہے ۔کھلے ہاتھوں گھر کے خرچ پورے کیے جارہے ہیں ۔اب برتھ ڈےcellibration،گھومنے پھرنے میں وقت گزر رہا ہے ۔Attiude کا مسئلہ ہے اور status کا بھی۔
*"ہر کمال را زوال است"*
*ہر کمال کو زوال ہے۔*
رشتے تو آتے نہیں ۔میٹری مونی،Marriage Beauroہمراہی میچ میکنگ،بھائ جان کے و ہاں سے ہوتا ہوا کوئی بھولا بھٹکا ،بڑی عمر والے نے رشتہ بھیجا یا والدین نے کوشش کی تو مجبوری کے رشتے! subjugation relationship.... لڑکے کا ،بے باکی سے انٹرویو لیا جارہا ہے ۔ ملازمت جاری رکھنے کی شرط ہے اور بھی کچھ شرائط رکھی جارہی ہے۔ انا ،Ego,اپنی اعلیٰ تعلیم کا زعم ،بڑی بڑی باتیں ،بڑے بڑے ڈیمانڈ ۔ اعلیٰ تعلیم یونیورسٹی اور صارفین آفس کلچر انھیں پہلے جھکنے نہیں دیتا۔۔ پھر رشتہ رجیکٹ کی نفسیات اور اپنی تعلیم اور دنیا دیکھ لینے کا غرور جنس۔۔۔۔
"اللہ تعالٰی نے مرد کو قوام بنایا اور گھر بار کے اخراجات اور معاش کی جدوجہد اس کے ذمہ رکھی اسی لیے بیوی کے نفقہ کا مرد کو مکلف بنایا گیا" ۔
لوگ بلا وجہ اپنی بیٹیوں کو کسب معاش اور ملازمت کے کورس یہ سوچ کر تو نہیں کرارہے کہ اگر شوہر نااہل نکل گیا ، معذور ہو گیا ،طلاق دے دیا تو وہ ملازمت سے کسب معاش پیدا کر لے گی یا ماڈرن کلچر ،مہنگائ اور اعلیٰ معیار زندگی،ہونے والے بچوں کی اعلیٰ اور پر تعیش زندگی کے لیے میاں بیوی دونوں کا کمانا بھی نا کافی ہے ۔ اس سے توکل اور شوہر پر اعتماد پر شک گزرتا ہے اور ہم خود ساختہ مسائل کو جنم دیتے ہیں۔
*والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنی بالغ اولاد کا جلد سے جلد نکاح کرادیں* ۔
اونچی ڈگریوں کا حصول اور اچھی ملازمت ، لڑکیوں کو پیروں پر کھڑا کرتے کراتےاور ٹکر کا رشتہ دیکھتے دکھاتے اپنی بیٹی کی خوشی کی عمر، ڈھل نہ جائے۔پھر ادھیڑ عمر میں یہ خوشی ملی بھی تو وہ اپنے ساتھ میں سو مصلحتں اور تحفظات کے درمیان زندگی کے جوش اور آسودگی سے محروم رہے گی جو جوانی کی شروع عمر میں خاص نعمت ہوتی ہے ۔اور جس کا بدل دوسرے آرام و تعیش نہیں ہو سکتے۔
"غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سایے ہیں"
*آخر عورت کیوں بغیر شوہر کے اپنی لمبی زندگی گزارے؟؟اسلام تجردکی زندگی (غیر شادی شدہ رہنے) کو پسند نہیں کرتا*
ہرکام اس کے صحیح وقت پر ہی بھر پور خوشی عطا کرتا ہے ۔
سماجی بندھن ،جہیز ،خود کا گھر اور ایجوکیشنل کیریئر کی دوڑ میں شادی کی عمر اور صحیح وقت گزر کرپھر مجبوری اور compromise کے رشتے ہی رہ جاتے ہیں ۔
*نہ جانے کون سی مجبوریاں ہیں جن کے لیے*
*خود اپنی ذات سے انکار کرنا پڑتا ہے*
اب جو بھولے بھٹکے شادی کے پیام آرہیے ہیں تو ان میں عمر، میچنگ کا مسئلہ ہے ۔ نکاح ثانی،Widow manطلاق شدہ کے رشتے ہیں۔ایک,دو بچہ ساتھ ہے ۔پہلی بیوی/شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔اب بس گھر بار کو لے کرچلنا ہے اور دیکھ ریکھ ہے۔Demand and pursue withdrawl ادائیگی اور تعاقب ۔اس پیٹرن میں ایک مشتاق دوسرا بیزار ایک قربت چاہے دوسرا فرار۔
ایک سے زائد بیوی Two wives کے لیے پوچھا جارہا ہے ۔وغیرہ وغیرہ ۔
مجبوری کے رشتوں میں اور Adjust ment کے نام پر اعلیٰ تعلیم یافتہ ، Working women ملازمت پیشہ خواتین 30/35 سال کی عمر والیاں بین مذہب شادیوں Ante rreligion Marriage کو بھی اپنانےلگیں ہیں ۔
*جبر وقت نے بخشی ہم کو ، اب کیسی مجبوری*
Comments
Post a Comment