تمہارے ووٹ کا حق دار کون؟
*تمہارے ووٹ کا حق دار کون؟*
عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910
###########
*سماجی ہم آہنگی*
اس وقت پارلیمانی الیکشن کے چرچے ہیں۔سیاسی پارٹیاں سرگرم ہیں ۔مسلم نفرت کا بازار گرم ہے ۔ مسلمانوں سے نفرت ہر چھوٹی بڑی اسٹیج سے ہورہی ہے گویا مسلمانوں سے دشمنی کے بل پر ہی الیکشن جیتنے کا مدعا ہے ۔
مسلمانوں کے بہی خواہ بن کرانھیں رجھانے کا کام بھی جنگی پیمانے پر ہو رہا ہیے۔۔۔زرا رک کر سوچیے تو.
*ووٹ ایک طاقت ہیے*۔
اور اپنے مسائل حل کر انے کا جمہوری حق بھی۔
*ووٹ ایک امانت ہے* اس کا شعوری استعمال آپ کو اگلے پانچ سالوں تک ایک ، انصاف پسند، سیکیولر،خدمت کے جذبے سے معمور، آپ کے مسائل اٹھانے والاعوامی نمائندہ مسلم و غیر مسلم ہوسکتا ہیے۔ایسا نمائنده آپ کے مذہبی امور، مدارس،مکاتب ، مساجد، خانقاہوں، عبادت گاہوں، آپ کی، زبان (اردو)، مسلم پرسنل لا کی بقاءمسلمانوں اور اسلام کے خلاف بنائے گئے قوانین کو بدلنے ،مساجد اور عبادت گاہوں کے 1991 کے قانون کو قائم رکھنے،اقلیتوں کے اداروں کی حفاظت ،ہجومی تشدد،مذہبی آزار ،مآب لینچنگ ،جارہیت، فرقہ وارانہ فسادات میں معصوم جانوں اور مسلمانوں کے مال کےاتلاف،بلا وجہ گھروں پر بلڈوزر چلا دینے ،نصاب اور تاریخ میں تبدیلی سے بچانے میں ایک اہم رول ادا کر سکتا ہو۔
*جاگو INDIA جاگو*
پورے ملک میں ایسی کوئی ایک سیاسی پارٹی نہیں جس کی آنکھ بند کر کے حمایت کی جاسکے۔ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کرنے والی کوئی مسلم سیاسی جماعت موجود نہیں۔
*کیا اسلام میں سیاست شجر ممنوعہ ہے؟*
مسلم علماء، دانشوروں، سیاسی تجزیہ نگاروں، مسلم دینی وسماجی جماعتوں اور مذہبی قائدین ، بڑے مدارس کے مفتیان ،مجاہد ملت،سجادہ نشین صاحب بصیرت حضرات کی ذمہ داری ہے کی وہ ہر حلقہ انتخاب کا جائزہ لیں اور جمہوری اصولوں کے پاس دار، ایماندار، سکیولر، صاف ستھرے کردار والے جیتنے والے امیدوار کے حق میں رائے دہی کا فیصلہ کریں۔ایک حلقے سے کھڑے کیے جانے والے دسیوں مسلم اور آزاد امیدواروں کو ووٹ کاٹنے اور مسلمانوں کے ووٹوں کا بٹوارہ کرنے والی کالی بھیڑوں کو پہچانیں ۔یہ موسمی مینڈکوں اور ان کے وعدے آزمائے ہوئے ہیں۔ یہی وقت ہے اپنے ووٹ اور جمہوری حق کو استعمال کرنے، رائے عامہ بنانے، سیاسی شعور اور دینی بصیرت کو کام میں لانےکا ۔اپنے ا تحاد واتفاق سے مسلم اور اسلام دشمن طاقتوں کو پچھاڑنےکا۔۔ جمہوریت کے میدان میں فرقہ پرست، مسلم دشمن، فاششٹ طاقتوں کو روکنے کا۔ اپنی ضرورت،اہمت ،طاقت اور بڑی اقلیت کو منوانے کا۔
*اگر اب بھی نہ جاگے تو*
یہ معکوس ترقی پوری ملت کو تاریخی زوال کی طرف لے جائے گی۔
یہ وقت غور وفکر کرنے اور مناسب فیصلے کا ہیے۔۔جو جاگے ہیں دوسروں کو جگائیں۔ جنہیں فراست حاصل ہیے وہ اپنی گفتگو اور ذرائع وسائل سے راہ نمائی فرمائیں ۔ مساجد اور خطبات جمعہ سے حالات حاضرہ پر بیانات ہوں ۔
*دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا*
مہاراشٹر میں مسلم ڈیموکریٹک فورم قائم کیا گیا ہے ۔اس میں بہت سی دین جماعتوں ،مسلکوں ،تنظیموں اور ایکٹوسٹ ،اداروں ،انجمںوں کو ساتھ لیا گیا ہے۔اس کی سیاسی بصیرت سے فائدہ اٹھائیں ،ملی اتحاد پیدا کریں ،مل جل کر کام کرنے کے جذبے کو ابھاریں ۔اپنی فیملی کے ساتھ ضروری شناختی کارڈ لیے ووٹ ڈالنے جائیں ۔دوسروں کو بھی لے کر جائیں ۔ محلے سے صد فیصد ووٹنگ ہو ۔اب مسلمان ملکی سیاست سے کنارہ کش رہ کر یا اسے شجر ممنوعہ بنا کر نہیں جی سکتے۔ ملک کے قانون اور فیصلے منتخب ممبران کی اکثریت اور جمہوریت سے ہی ہوتے ہیں ۔ شہریوں کے حقوق کی حفاظت دستور ہند سے ہوتی ہے ۔عدلیہ ،مقننہ،انتظامیہ ،میڈیا جمہوریت کے ستون ہیں ۔اس ملک میں مسلمانوں کی بقاء اور ملت کی حفاظت کے لیے دین میں سیاست کو جگہ دینا لازمی امر ہو گیا ہے. جو دینی جماعتیں با اثر اور اپنے ساتھ مسلمانوں کی بڑی تعداد رکھتی ہے اسے بھی اجتہاد کرکے ملکی سیاست کو سمجھنے اور اس میں حصہ لینے کی گنجائش نکالنا چا ہیے۔
*جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی*
*عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری*
9224599910
Comments
Post a Comment