مفاہمت ضروری ہے
*مفاہمت بھی کچھ کم نہیں*
*The Surander Husband*
از:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910
=============================
ہمارے مفاہمتی کاؤنسلنگ سینٹر پر جاوید صاحب آئے- اوراحوال وکوائف بتا تے ہوئے کہا کہ اب وہ شادی کے لیے کاؤنسلنگ چاہتے ہیں -پہلی بیوی ملازمت کرتی تھی اس زعم میں وہ مجھے سے ان بن ،کھٹ پٹ کے بعد خلع لے کر علحیدہ ہوگی- دوسال بعد پھر نکاح کیالیکن دل کھٹے رہے اور اُسے میں نے طلاق دے دیا۔ پھر ایک شادی کی -ایک بچّے کی پیدائش بھی ہوئی لیکن زندگی میں ازدواجی سکون نہ ملنا تھا سو نہ ملا- یا تو شادی کے بعد chemistry نہیں ملی، یا کنڈلی ہی بے جوڑ نکلی ،حالانکہ نبھا کے سلسلے کی جو کوشش ہو سکتی تھی حتی الامکان کی-دونوں بیاہ میں بیوی کو joint family سےالگ بھی رکھا لیکن لا حاصل ۔اب سوچتا ہوں کہ ازدواجی سکھ میری زندگی میں نہیں ۔اپنے بہت سے اطوار بدل چکا ہوں۔بیوی کے تئیں توقعات اور اپنے پچھلے نطریے کو بھی بدل چکا ہوں -سماج میں بنی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے۔ عمر کے 40ویں سال میں ہوں۔تندرست ہوں ۔ لیکن بغیر بیوی کے مجّرد رہنا پڑرہا ہے-
ہم نے ان سےانھیں کچھ مشقیں کروائی، ایک سرگرمی میں چھوڑی ہوئی بیویوں کی 25 خوبیاں اور پانچ برائیاں لکھنے کا مشکل ہوم ورک دیا -کچھ ہسٹری اسٹدی مطالعہ کے لیے دی۔ایک نشست ان کے والدین سے بھی کروائی۔ اس سے پہلے انھوں نے کبھی کاونسلنگ کا سہارا نہیں لیا تھا ۔ان سے کاؤنسلنگ کے لیےformet بھرانے کے بعد جو تجزیہ کیا گیا وہ یوں تھا۔
(1) پہلی شادی کے وقت وہ مرعوبیت کا شکار رہے-
(2) ذہنی بلوغت کی کمی دکھائی دی-
(3)بیوی پر شک کرتے، عیب چینی کرتے تھے-
(4) بیوی کے جذبات کا دھیان نہیں رکھتے تھے -
(5) بیوی کو وقت کم دیتے، اس میں بھی کڑوی کسیلی گفتگو کرتے -
(6)کچھ فیصلے انھوں نے نادانی سے کیے دور اندیشی اور نتائج کی پرواہ نہیں کی-
دو نکاح بھی کیے۔
(7) عموماً مطلقہ بیوی کو اس کے سابق شوہر سے ملے رویہ، تجربے اور والدہ کی ہمہ وقت مداخلت نے بے خوف، نافرمان، سرکش بنا دیتا ہے-
(8)بیوی مرد کو اپنےکنڑول میں رکھنا چاہتی تھی اور مرد اپنے کنٹرول میں -
*اس کشمکش میں عزت سادات بھی گئی*
(9) مزاج میں دقیانوسیت، خرچ میں تنگی اور محبت ومودت و کشادگی کی کمی نے بیوی کو باغی بنا دیا-
(10) خیالات، حالات وقت اور سوچ کے برابردونوں چل نہ سکے- مصالحت compromise کی دونوں طرف سے کمی رہی۔ مزاجوں کے فرق نے دونوں کو جدائی کا تحفہ دیا۔
(11)تنہائی اور بے زوجگی نے جاوید صاحب کو خود پسند، چڑچڑا Irritiblityبنادیا۔اب وہ Deperation کا بھی شکار ہیں-
Depression leads to misery
(12) ہمدردی، پیار اور اپنے گھر میں زوجی سکون کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ وہ بیویوں کے ساتھ وقت گزار چکے ہیں -
(13) گھر کا سکون برباد کرنے میں کبھی مرد، کبھی عورت، کبھی سسرال والے ذمّہ دار ہوتے ہیں ۔اس کیس میں بھی یہی۔ علامتں دکھائی دیتی ہیں -
کاؤنسلنگ سینٹر کی فہمائش اور بار بار کی میٹنگوں کے بعد خود انھوں نے جو احساس کاونسلر کو دیا وہ یوں تھا-
"میری شادی شدہ زندگی کی ناکامی میں ،میں خود بھی قصور وار ہوں۔اب میں ایک surendered Husband بن کر پھر ایک بار ازدواجی زندگی کی گاڑی کوپڑی پر دوڑانا چاہتا ہوں "-
کاونسلنگ سے ان میں بہت تبدیلی واقع ہوئی
(1) وہ کم پڑھی لکھی، بڑی عمر کی واجبی شکل وصورت رکھنے والی، پختہ سمجھ matuared اور تعاون کرنے والی لڑکی سے بلا شرط شادی کر کے گھر آباد کرنے کے خواہاں ہیں -
(2) وہ اب Non interferenceخوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے عدم مداخلت کے ساتھ، تقسیم کار کے اصول Division of work کو اپنائیں گے۔ (3)وہ زوجی ہم آہنگی (marital Harmony)اورcoordenation pairsکےخواہش مند ہیں -
(4)وہ تنقید اور نقص criticise نہیں کریں گے بلکہ وہ مربوط، خوش آہنگ Living a harmonious Life گزاریں گے -
*زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا، میں باز آیا*
Comments
Post a Comment