فسطائیت RSS

 *فسطائیت،RSS, ہندوتو۔  اور ہندوستانی مسلمان!*


*عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری*


##############################

ملک کا حالیہ منظر نامہ،RSS کے مقاصد کی کامیابی،نفرت کا ماحول،مآب لینچنگ، تاریخی مساجد پر مندر ہونے کے سروےاور مسلمانوں کی مجموعی صورت حال سے سبھی درد مند دل رکھنے والےاور سکولر  افراد فکر مند ہیں۔

*وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے*

*تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں*

 مسلمانوں کی قدیم عبادت گاہوں ،پرعدلیہ کے فیصلے اور مدارس ،مساجد،درگاہوں پر سروے کرنے  کے جلدی  جلدی میں فیصلے کچھ کہہ رہیے ہیں ۔

فسطائیت،ہندوتو،بھگواکرن  کی فکری بیداری اور لہر

کے نتائج سے ملک کی جو تصویر ابھر رہی ہے وہ بڑی قابل تشویش ہے۔

*جو ہے پردوں میں نہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہے*

*زمانے کی طبعت کا تقاضہ دیکھ لیتی ہے*

ملت اسلامیہ کی مستقبل کے سلسلے میں غفلت ،نا عاقبت اندیشی،غیر محتاط رویے،جہالت ،معاشی بد حالی،فکری کمزوری ۔مسلکی اور گروہی اختلاف،سیاسی بے شعوری و بے وزنی نے نہ صرف اتحاد کو پارہ پارہ کیا بلکہ 20کروڑ مسلمانوں کو اپنے مستقبل کی طرف سے اندیشوں اور گہری تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

یہ بھی اللہ کی سنت ہے کہ وہ ہر محنت کرنے والے کو کامیابی سے دو چار کرتا ہے اور بڑھوتری کرتا ہے خواہ اس کی یہ ترقی منفی سمت میں ہی  کیوں نہ ہو۔

*دم توڑ چکی ان کا دو صدیوں کی غلامی* 

*دارو کوئ سوچ ان کی پریشاں نظری کا*

ہماری دینی جماعتوں اور مدارس کی طرف سے نعرہ مستانہ گونجتا ہے کہ

"دین میں سیاست نہیں،مسجد میں سیاست کی بات نہیں "

آج کے حالات اسی کا شاخسانہ اور باطل کے اپنے موہوم مقاصد میں کامیابی کی سیڑھی  ثابت ہوا ہے۔


*دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا*


 20کروڑ مسلمانوں نے نظریاتی اور فکری سیاست سے منہ موڑ کر وقتی منہ بھرائی ،چاپلوسی ،حاشیہ برداری،انتشار ملت کو ہوا دی ہے  اور مقاصد خیر امت سے آنکھیں بند کر لیں اوراپنا رخ موڑ لیا ہے۔

*چھپا کر آستینوں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے*

*عنادل  باغ  کے  غافل  نہ بیٹھیں آشیانوں  میں*


*مسلمانوں کے Upliftment کے لیے تجاویز*

*محبت کے شرر سے دل پر نور ہوتا ہے*

*ذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہے*

*(1)تعلیم و تربیت*

تعلیم کو اولیں ترجیح ،کڑی محنت،معیاری تعلیمی اداروں کا قیام،عصری ودینی تعلیم کا حسین امتزاج،  دینیات اور اردو سبجیکٹ پر خصوصی توجہ نہ کہ خانہ پری۔(STEM),سائنس ،ٹکنالوجی ، انجینیرنگ،میتھس، میں ترقی اور معیاری نمائندگی۔

*(2)معاشی استحکام*

 تجارت میں ایمانداری ،بھروسہ اور اعتماد کا پاس۔کاروبار کے لیےسود سے پاک قرضوں کی فراہمی اورایمانداری سے  رقوم کی واپسی۔کاروباری مہارت ،پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ،ذکوات ،صدقات ،Donations،وقفجائیدادوں کے ذریعے استحکام ۔

*(3)اخلاق اور روحانی تربیت*

بچوں اور نوجوانوں میں اخلاقی اقدار کا فروغ۔

قرآن و سنت کی تعلیمات کو عملی زندگی میں برتنا۔ ملی شعوری کی بیداری۔

*(4)اتحاد ملت کی سبیل*

*یہ خاموشی کہاں تک، لذت فریاد پیدا کر*

*زمیں پر تو ہو،اور تیری صدا ہو آسمانوں میں*

*نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤں گے اے  ہندوستاں والو*

*تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں*

ملت کے مسئل کو اجتماعی طور سے حل کرنے کے لیے اجتماعی اصول وآداب کی پاسداری۔ ہر شعبہ زندگی اور اجتماعیت میں بنیان مرصوص اوراندرونی اتحاد پر دل کی گہرائیوں سے کار بند۔

*(5)سماجی اصلاحات*

مسلم کمیونٹی میں سماجی انصاف ،

گروہی روایات ،رسوم ورواج ،شادی اور دیگر تہوار و تقریبات میں غیر ضروری اسراف و فضول خرچی پر قدغن ۔ وحدت امت کو فروغ،مشترکہ عقائد اور اقدار کی بنیاد پر مضبوط اتحاد کا قیام۔

علماء،دانشوروں ،نوجوانوں ،مسالک و ساری چھوٹی بڑی جماعتوں ،اداروں کا وفاق بنا کر مل جل کر کام کرنے کی عادت ڈالنا.

*(6)جمہوری ،سیاسی شراکت*

ملت میں عملی سیاسی کی  بیداری ،مسلم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی نمائندگی،مختلف سیاسی ،سماجی اور قانونی مسائل کے لیے مضبوط لابنگ۔

Fadretion of communicationمسلم اقلیتوں کے مسئل کو بڑے پیمانے پر ہر سطح سے اجاگر کرنا ۔ اور ان کا مستقل اور بہتر حل تلاش کرنا۔

*(7)میڈیا اور جدید ٹکنالوجی کا استعال*

مسلمانوں کی مثبت اور حقیقی تصور پیش کرنے کے لیے Integral Humanism, اسلامو فوبیا اورغلط فہمیوں کے ازالے کے لیے جدید ٹکنالوجی،میڈیا ،کمیو نیکیشن کے پلیٹ فارمز،شوشل میڈیا کے بھرپور اور بامقصد استعمال کے لیے جدوجہد۔ Artificial Intelligence مصنوعی ذہانت میں مہارت،اورData Analysis ، میں اجتماعی  سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے ۔

اسلام کے حیات بخش پیغام کو برادران وطن تک پہنچانے اور ان کے دلوں پر دستک دینے کے لیے، دعوت وتبلیغ کے لیے نوجوانوں کی تربیت۔

مسلمانوں میں شعوری اور قرآنی تصور دین اور اخلاقی تعلیم و تربیت اور صحت وتندرستی کے لیے مقام کی سطح سے لے کر پورے ملک میں تربیتی تنظیمی ڈھانچہ بنانا ۔ انسانی حقوق کی بحالی ،عدل وقسط کے قیام،انصاف کی فراہمی،مشترک پالیسی سازی کے فروغ کے لیے مشترکہ مہمات کا انعقاد کرنا ۔

دعوت،تذکیہ ،اصلاح ،خدمت ، مثبت رائے عامہ کی ہمواری کی جدوجہد میں مرد وخواتین کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان