اکابر پرستی
*اکابر پرستی اور شخصیت پرستی کے نقصانات*
(جماعتوں، مسالک، دینی قائدین اور مدارس کے تناظر میں ایک جائزہ)
عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
-----------------------------
اکابر کا احترام اسلام کی روایت ہے، مگر اکابر پرستی اور شخصیت پرستی ایک ایسا رویہ ہے جو دین کی روح کے خلاف جا سکتا ہے۔ اسلام میں اصل معیار حق اور دلیل ہے، نہ کہ کسی شخصیت کا نام یا مقام۔ جب کسی شخصیت کو اس حد تک بلند کر دیا جائے کہ اس کی ہر بات کو بلا دلیل قبول کیا جائے تو یہ رویہ فکری جمود، فرقہ واریت اور اصلاح کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
قرآن مجید نے واضح کیا کہ انسان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنی ہے، نہ کہ اندھی تقلید میں انسانوں کو معصوم سمجھ لینا۔
> "اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ"
(سورۃ الاعراف 7:3)
"جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔"
*1۔ اکابر پرستی اور شخصیت پرستی کیا ہے؟*
اکابر پرستی اس رویے کو کہتے ہیں جس میں کسی بزرگ، عالم، پیر، رہنما یا جماعت کے قائد کو اس قدر تقدیس دے دی جائے کہ:
* اس کی رائے کو قطعی حق سمجھا جائے
* اس پر تنقید یا اختلاف کو گستاخی قرار دیا جائے
* اس کی غلطی کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کی جائے
یہی کیفیت آگے چل کر شخصیت پرستی میں بدل جاتی ہے۔
*2۔ شخصیت پرستی کے بڑے نقصانات*
(1) حق کے بجائے شخصیت معیار بن جاتی ہے
جب کسی شخصیت کو معیار بنا لیا جائے تو حق اور دلیل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
حضرت علیؓ کا قول ہے:
> "حق کو پہچانو، تم اہلِ حق کو پہچان جاؤ گے۔"
یعنی شخصیت سے حق معلوم نہیں ہوتا بلکہ حق سے شخصیت کی پہچان ہوتی ہے۔
(2) علمی جمود پیدا ہو جاتا ہے
شخصیت پرستی کی وجہ سے:
* نئے سوالات پر تحقیق رک جاتی ہے
* اجتہاد کا دروازہ عملاً بند ہو جاتا ہے
* علمی آزادی ختم ہو جاتی ہے
* مدارس اور علمی اداروں میں یہ رجحان ہو تو تحقیق کم اور روایت زیادہ ہو جاتی ہے۔
(3) فرقہ واریت میں اضافہ
جب ہر مسلک اپنے اکابر کو حتمی معیار سمجھنے لگتا ہے تو:
* مسالک کے درمیان دوریاں بڑھتی ہیں
* اختلاف علمی نہیں بلکہ جذباتی ہو جاتا ہے
* اتحادِ امت کمزور پڑتا ہے
اسی لیے تاریخ میں فرقہ واریت کا ایک بڑا سبب شخصیات کے گرد بننے والی وابستگیاں رہی ہیں۔
(4) اصلاح کا دروازہ بند ہو جاتا ہے
* جب کسی شخصیت کو غلطی سے پاک سمجھ لیا جائے تو:
* اصلاح کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے
* ادارے موروثی یا شخصی ہو جاتے ہیں
* تنقید کو بغاوت سمجھا جاتا ہے
یہی وجہ ہے کہ بعض ادارے اور مدارس نسلی یا خاندانی ملکیت بن جاتے ہیں۔
(5) قیادت کا معیار کمزور ہو جاتا ہے
* شخصیت پرستی میں قیادت کا انتخاب صلاحیت سے نہیں بلکہ وابستگی سے ہوتا ہے۔
نتیجہ:
کمزور قیادت
تنظیمی انتشار
اداروں کی کارکردگی میں کمی
*3۔ جماعتوں اور مسالک میں شخصیت پرستی*
بعض دینی جماعتوں اور مسالک میں یہ رجحان دیکھا جاتا ہے کہ:
کسی بانی یا بزرگ کے اقوال کو آخری فیصلہ سمجھا جاتا ہے
* بعد کی تحقیق یا تبدیلی کو قبول نہیں کیا جاتا
* جماعتی وفاداری کو دینی معیار بنا دیا جاتا ہے
حالانکہ اسلام میں اجتماعی مشورہ (شوریٰ) کا نظام اصل اصول ہے۔
*4۔ مدارس میں شخصیت پرستی کے اثرات*
مدارس میں بھی بعض جگہ یہ مسائل سامنے آتے ہیں:
(1) بانی شخصیت کا حد سے زیادہ تقدس
مدرسے کے بانی یا شیخ کے افکار کو ناقابلِ تنقید سمجھ لیا جاتا ہے۔
(2) نصاب میں جمود
نیا نصاب شامل کرنے یا جدید علوم سے فائدہ اٹھانے میں مزاحمت ہوتی ہے۔
(3) موروثی انتظام
کچھ اداروں میں انتظام خاندانی ہو جاتا ہے۔
(4) مسلکی سختی
طلبہ کو ایک مخصوص فکر تک محدود رکھا جاتا ہے۔
*5۔ کون آگے اور کون پیچھے؟ (ایک حقیقت پسندانہ جائزہ)*
یہ مسئلہ کسی ایک مسلک یا جماعت تک محدود نہیں ہے۔
تقریباً تمام حلقوں میں مختلف درجوں میں پایا جاتا ہے:
* بعض خانقاہی نظام میں پیر پرستی
* بعض جماعتی نظام میں امیر پرستی
* بعض علمی حلقوں میں اکابر کی مطلق تقلید
* بعض مدارس میں ادارہ پرستی
فرق صرف شدت اور صورت کا ہے، اصل مسئلہ ذہنیت کا ہے۔
*6۔ اسلام کا معتدل اصول*
اسلام نہ تو بزرگوں کی بے ادبی سکھاتا ہے اور نہ اندھی تقلید۔
امام مالکؒ کا مشہور قول ہے:
> "ہر شخص کی بات لی بھی جا سکتی ہے اور رد بھی کی جا سکتی ہے، سوائے اس ہستی کے جو اس قبر میں آرام فرما ہے۔"
اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قبر کی طرف اشارہ کیا۔
*7۔ صحیح طرزِ فکر کیا ہونا چاہیے؟*
(1) شخصیت نہیں، دلیل معیار ہو
(2) احترام کے ساتھ اختلاف کی گنجائش ہو
(3) شوریٰ اور اجتماعی قیادت کو فروغ دیا جائے
(4) مدارس میں تحقیق اور تنقید کی آزادی ہو
(5) مسالک کے درمیان علمی مکالمہ ہو
*خلاصہ*
اکابر کا احترام اسلامی روایت ہے، لیکن اکابر پرستی اور شخصیت پرستی امت کی فکری ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب شخصیت حق پر غالب آ جائے تو اختلاف دشمنی بن جاتا ہے، تحقیق رک جاتی ہے اور ادارے کمزور ہو جاتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ حق کو معیار بنایا جائے اور ہر شخصیت کو اسی معیار پر پرکھا جائے۔
Comments
Post a Comment