مدارس کا تعلیم معاشی ماڈل

 *ہندوستانی مدارس کا مرکزی تعلیمی و معاشی ماڈل*


(Centralized Educational and Financial Reform Model for Madaris in India)

مرتب: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری







برصغیر میں اسلامی مدارس نے گزشتہ دو صدیوں میں دینی تعلیم کی بقا اور تحفظ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ خصوصاً 1857 کے بعد جب مسلمانوں کا سیاسی و تعلیمی نظام کمزور ہو گیا تو علماء نے آزاد دینی مدارس قائم کیے۔

* ان اداروں میں سب سے زیادہ اثر رکھنے والا ادارہ

Darul Uloom Deoband ہے جس نے ایک مضبوط نصابی روایت قائم کی۔

* اسی طرح دیگر ادارے بھی وجود میں آئے جیسے:

Darul Uloom Nadwatul Ulama


Jamia Ashrafia Lahore


Jamia Nizamia Hyderabad

لیکن وقت کے ساتھ مدارس کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا اور ایک غیر منظم تعلیمی و مالی نظام پیدا ہو گیا۔

*2۔ ہندوستان میں مدارس کی موجودہ صورت حال*

مختلف سروے کے مطابق ہندوستان میں مدارس کی تعداد تقریباً03سے 4 لاکھ مدارس

کروڑوں طلبہ

ہزاروں اساتذہ

اہم تنظیمیں:


Darul Uloom Deoband


Jamiat Ulama-e-Hind


All India Muslim Personal Law Board


Jamaat-e-Islami Hind

یہ ادارے رہنمائی تو کرتے ہیں مگر کوئی مرکزی تعلیمی کنٹرول موجود نہیں۔

*3۔ مدارس کے معاشی نظام کا تجزیہ*

مدارس کی آمدنی کے بنیادی ذرائع:

1۔ زکوٰۃ

2۔ صدقات

3۔ فطرہ

4۔ قربانی کی کھالیں

5۔ چندہ

6۔ اوقاف

اندازے کے مطابق ہندوستان میں مسلمانوں کی زکوٰۃ کی سالانہ مقدار:

تقریباً 20,000 کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے۔

مگر اس کا بڑا حصہ غیر منظم طریقے سے خرچ ہوتا ہے۔

*4۔ موجودہ نظام کے مسائل*

1۔ مدارس کی غیر ضروری کثرت

* ایک ہی شہر میں کئی مسلکی مدارس۔

2۔ مالی شفافیت کی کمی

زیادہ تر مدارس کا آڈٹ نہیں ہوتا۔

3۔ نصاب میں عدم توازن

قدیم نصاب زیادہ ہے، عصری علوم کم۔

4۔ ملازمت کا محدود دائرہ

مدارس کے فارغین کو صرف: امامت ،تدریس

ہی میسر ہوتی ہے۔

*5۔ اصلاحی مرکزی ماڈل*

(1) مرکزی تعلیمی بورڈ

ایک ایسا قومی ادارہ ہو جو مدارس کے لیے:

نصاب

امتحانات

اساتذہ کی تربیت

تحقیقی پروگرام منظم کرے۔

* یہ ادارہ درج ذیل تنظیموں کی مشترکہ نگرانی میں ہو سکتا ہے:

All India Muslim Personal Law Board


Jamiat Ulama-e-Hind


Jamaat-e-Islami Hind

(2) مدارس کی درجہ بندی

مدارس کو تین درجوں میں تقسیم کیا جائے۔

1۔ مکاتب (ابتدائی تعلیم)

مقام: مسجد

تعلیم:

قرآن ، بنیادی عربی

اخلاقیات

* طلبہ فیس دے سکتے ہیں۔

2۔ ثانوی مدارس

تعلیم: دینیات  ، عربی

اردو ،۔ انگریزی کمپیوٹر

3۔ اعلیٰ مدارس

یہاں تخصص اور تحقیق ہو۔

مثال: فقہ ، حدیث

دعوت اسلامی معاشیات

*6۔ مرکزی زکوٰۃ فنڈ*

ملت کا ایک مرکزی زکوٰۃ فنڈ بنایا جائے۔

اس کے تحت زکوٰۃ کو قرآن کے آٹھ مصارف میں تقسیم کیا جائے:

1۔ فقراء

2۔ مساکین

3۔ عاملین

4۔ مؤلفة القلوب

5۔ غلاموں کی آزادی

6۔ قرض دار

7۔ فی سبیل اللہ

8۔ مسافر

(سورہ توبہ 9:60)

مدارس کو صرف ایک حصہ ملے۔

*7۔ مالی شفافیت*

ہر مدرسہ کے لیے ضروری ہو:*

سالانہ آڈٹ

پبلک رپورٹ

ڈیجیٹل حساب

*8۔ اساتذہ کی تربیت*

اساتذہ کے لیے تربیتی مراکز قائم ہوں۔

مثال کے طور پر:

تدریسی مہارت ، 

نفسیات ، جدید تعلیم

زبانیں

*9۔ مدارس اور معاشرہ*

مدارس کو صرف مذہبی ادارے نہیں بلکہ سماجی خدمت کے مراکز بننا چاہیے۔

مثلاً:

فیملی کاؤنسلنگ

تعلیمی رہنمائی

اخلاقی تربیت

سماجی اصلاح

*10۔ نتیجہ*

مدارس ملت کا قیمتی سرمایہ ہیں، مگر موجودہ دور میں انہیں:

* منظم

* معیاری

* شفاف

اور جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جانا ضروری ہے۔

*مرکزی تعلیمی اور معاشی نظام قائم ہونے سے*:

* وسائل ضائع نہیں ہوں گے

* تعلیم کا معیار بڑھے گا

* ملت کی اجتماعی طاقت مضبوط ہوگی۔

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان