مدارس قلعے ہیں

 مدارس اسلامیہ: کیا واقعی “دین کے قلعے” ہیں؟

(ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ)

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری 

-----------------------------------------------------

*1۔ مدرسہ کیا ہے؟ (اصطلاحی وضاحت)*

عربی میں مدرسہ کا مطلب صرف "اسکول" یا تعلیمی ادارہ ہے۔ تاریخی طور پر مدارس میں قرآن، فقہ، ادب، ریاضی اور تاریخ جیسے مضامین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ 


اسلام کے ابتدائی دور میں تعلیم مساجد کے حلقوں میں ہوتی تھی اور بعد میں مستقل مدارس قائم ہوئے۔ 

*2۔ مدارس کی حقیقی درجہ بندی*

حقیقت میں “مدارس اسلامیہ” ایک ہی قسم کے نہیں ہوتے۔ انہیں کم از کم چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

1۔ مکاتب (Mosque Maktab System)

یہ سب سے بنیادی درجے کے مدارس ہیں۔

تعلیم:

قرآن ناظرہ

بنیادی دینیات

عربی حروف

مقام  ۔۔مساجد

محلے کے مدرسے

طلبہ کی عمر:5–12 سال

ان کا مقصد:بنیادی دینی تعلیم

*2۔ حفظ کے مدارس*

یہ وہ ادارے ہیں جہاں طلبہ:

قرآن حفظ کرتے ہیں

تجوید سیکھتے ہیں

مدت:2–5 سال

3۔ درسِ نظامی کے مدارس

یہ اصل علماء تیار کرنے والے مدارس ہوتے ہیں۔

تعلیم:  ، فقہ۔ ، حدیث

اصول فقہ ،عربی ادب

مثال:

Darul Uloom Nadwatul Ulama


Al Jamiatul Ashrafia

4۔ جامعہ یا اعلیٰ اسلامی یونیورسٹی

یہ اعلیٰ سطح کے ادارے ہوتے ہیں جہاں:

تخصص فی الفقہ

تخصص فی الحدیث

تحقیق ہوتی ہے۔

3۔ مدارس کی حقیقی تعداد

مختلف مطالعات کے مطابق ہندوستان میں بڑے مدارس:

30,000 سے زیادہ مدارس

لاکھوں طلبہ

بہت سے غریب خاندانوں کے لیے یہ مفت تعلیم اور رہائش فراہم کرتے ہیں۔ 

4۔ مدارس کے مثبت کردار

تحقیقی مطالعات کے مطابق مدارس کے کئی اہم کردار ہیں:

1۔ دینی تعلیم کا تحفظ

قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم جاری رکھنا۔

2۔ غریب بچوں کی تعلیم

بہت سے مدارس:

کھانا ، رہائش ، تعلیم

مفت فراہم کرتے ہیں۔ 

3۔ مذہبی شناخت کا تحفظ

مدارس اسلامی ثقافت کو محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ 

4۔ علماء اور ائمہ کی تیاری

مساجد کے لیے:

امام ، خطیب ، مفتی

یہیں سے تیار ہوتے ہیں۔

*5۔ کیا واقعی یہ “اسلام کے قلعے” ہیں؟*

یہ جملہ خطیبانہ (rhetorical) ہے، تحقیقی اصطلاح نہیں۔

حقیقت یہ ہے:

مدارس اسلام کے ایک شعبے کی خدمت کرتے ہیں، پوری اسلامی زندگی کی نہیں۔

اسلام کی ضروریات صرف مدارس سے پوری نہیں ہوتیں۔

*6۔ اسلام کی مکمل ضروریات کیا ہیں؟*

اسلامی معاشرے کے لیے درج ذیل ادارے ضروری ہوتے ہیں:

1۔ تعلیم

2۔ معاشیات

3۔ سیاست

4۔ سائنس

5۔ میڈیا

6۔ قانون

7۔ سماجی خدمات


مدارس صرف:

دینی تعلیم کا حصہ پورا کرتے ہیں۔

7۔ مدارس کی موجودہ کمزوریاں

* تحقیقی مطالعات میں چند مسائل سامنے آئے ہیں:

1۔ نصاب کی محدودیت

زیادہ تر مدارس میں:

سائنس

معاشیات

جدید علوم

کم پڑھائے جاتے ہیں۔

2۔ معاشی انحصار

مدارس کا نظام زیادہ تر:

زکوٰۃ ،صدقات پر چلتا ہے۔

3۔ مسلکی تقسیم

مختلف مسالک کے الگ مدارس:

دیوبندی ، بریلوی ،اہل حدیث

جس سے اتحاد کم ہوتا ہے۔

4۔ سماجی اثر کی کمی

مدارس کے علماء عموماً:

سیاست ، معاشیات

جدید سماج میں کم کردار ادا کرتے ہیں۔

8۔ ایک اہم حقیقت

اسلامی تہذیب کے سنہری دور میں صرف مدارس نہیں تھے بلکہ:

یونیورسٹیاں

سائنسی ادارے

بیت الحکمت

ہسپتال بھی تھے۔


اگر صرف مدارس ہوتے تو اسلامی تہذیب اتنی ترقی نہ کرتی۔

*9۔ تحقیقی نتیجہ*

مدارس کو تین حقیقتوں میں سمجھنا چاہیے:

حقیقت 1

مدارس اسلامی علوم کے محافظ ہیں۔

حقیقت 2

مدارس اسلامی تہذیب کے مکمل نمائندے نہیں۔

حقیقت 3

مدارس کو جدید علوم اور سماجی کردار کے ساتھ اصلاح کی ضرورت ہے۔

10۔ ایک متوازن جملہ

حقیقی طور پر زیادہ درست جملہ یہ ہوگا:


*“مدارس اسلامیہ دین کے قلعے نہیں بلکہ اسلامی علوم کے مراکز ہیں۔”*

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان