زکوٰۃ مدارس اور ملت

 *زکوٰۃ، مدارس اور ملت کی اجتماعی ذمہ داری*

(فقہی و سماجی تجزیہ)

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری 

__________________________________



برصغیر میں مدارسِ دینیہ نے اسلامی علوم، تہذیب اور شناخت کی حفاظت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ خصوصاً 1857 کے بعد جب سیاسی اقتدار ختم ہوا تو دینی بقا کا مرکز مدارس بنے، جن میں نمایاں مثال دارالعلوم دیوبند ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ مدارس کی مالیاتی ساخت، انتظامی ڈھانچہ اور زکوٰۃ پر انحصار بحث کا موضوع بن گیا۔

*1. زکوٰۃ کا شرعی مصرف: قرآن کی روشنی میں*

قرآن مجید (سورۃ التوبہ: 60) میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان ہوئے:

1. فقرا

2. مساکین

3. عاملینِ زکوٰۃ

4. مؤلفة القلوب

5. رقاب (غلاموں کی آزادی)

6. غارمین (مقروض)

7. فی سبیل اللہ

8. ابن السبیل

اہم نکتہ:

قرآن میں کہیں “مدرسہ” بطور مستقل مصرف مذکور نہیں۔

البتہ فقہاء نے “فی سبیل اللہ” کی تشریح میں دینی تعلیم کو شامل کیا ہے . بشرطیکہ مستحق طلبہ کو زکوٰۃ دی جائے، نہ کہ عمارتوں کو۔

*2. کیا زکوٰۃ کا مصرف صرف مدارس ہیں؟* 

ہرگز نہیں۔

فقہی طور پر زکوٰۃ کا بڑا حصہ براہِ راست غرباء، یتامیٰ، بیوگان، مریضوں اور قرض داروں کا حق ہے۔

* مدارس کو زکوٰۃ اس صورت میں دی جا سکتی ہے جب:

* طلبہ فقیر یا مستحق ہوں

* رقم طلبہ کی ملکیت میں دی جائے

* ادارہ بطور وکیل تقسیم کرے

لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ زکوٰۃ صرف مدارس کے لیے ہے۔

*3. مدارس: ملت کے ادارے یا موروثی جاگیریں؟*

*(الف) نظریاتی حیثیت*

مدارس اصولاً “وقف” یا “عوامی امانت” ہوتے ہیں۔

ان کا مقصد ملت کی دینی خدمت ہے، نہ کہ شخصی ملکیت۔

(ب) عملی مسئلہ

بعض مقامات پر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ:

* نظامِ انتظام موروثی ہو گیا

* شوریٰ غیر فعال ہے

* حسابات شفاف نہیں

* بانی خاندان مکمل کنٹرول رکھتا ہے

اگر ایسا ہے تو یہ شرعاً اور اخلاقاً محلِ نظر ہے، کیونکہ زکوٰۃ امانت ہے، مِلکیت نہیں۔

*4. چندے پر انحصار کب تک؟*

مدارس کی معیشت عموماً تین ذرائع پر چلتی ہے:

1. زکوٰۃ

2. صدقات و عطیات

3. قربانی کی کھالیں

یہ ماڈل پائیدار (sustainable) نہیں سمجھا جاتا جب تک:

* سرمایہ کاری فنڈ قائم نہ ہو

* پیشہ ورانہ کورس شامل نہ ہوں

* کمیونٹی پارٹنرشپ نہ ہو

* مالی شفافیت نہ ہو

عالمی سطح پر دینی ادارے اینڈومنٹ فنڈ (Waqf Endowment) سے چلتے ہیں، جس کی مثال جامعہ ازہر جامعہ ازہر میں دیکھی جا سکتی ہے۔

*5. مدارس کے معانی اور ارتقاء*

لغوی معنی:

“مدرسہ” عربی لفظ “درس” سے نکلا ہے، یعنی سیکھنے کی جگہ۔

تاریخی ارتقاء:

ابتدائی اسلام میں مسجد تعلیم کا مرکز تھی

* عباسی دور میں باقاعدہ مدارس قائم ہوئے

* برصغیر میں نظامِ تعلیم کی تدوین میں دارالعلوم ندوۃ العلماء اور دیگر اداروں نے کردار ادا کیا

*6. موجودہ اعداد و شمار (عمومی جائزہ)*

* ہندوستان میں اندازاً  3تا4 لاکھ سے زائد چھوٹے  مکاتب و بڑے مدارس

* کروڑوں طلبہ زیر تعلیم

اکثریت زکوٰۃ و صدقات پر منحصر

(یہ اعداد مختلف غیر سرکاری سروے رپورٹس پر مبنی عمومی اندازے ہیں)

*7. اصلاحی تجاویز*

1. شفاف آڈٹ سسٹم لازمی ہو

2. شوریٰ میں بیرونی تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں

3. زکوٰۃ اور عطیات کی علیحدہ مدات ہوں

4. طلبہ کی فلاح کو مرکزی حیثیت دی جائے

5. ڈیجیٹل شفافیت (سالانہ رپورٹ ویب سائٹ پر)

*8. تحقیقی و فقہی نتیجہ*

* زکوٰۃ مدارس کا واحد مصرف نہیں

* مدارس ملت کی امانت ہیں، موروثی جاگیر نہیں

* چندے پر مکمل انحصار کمزور ماڈل ہے

* شفافیت اور اصلاح وقت کی ضرورت ہے


اختتامی کلمات

مدارس نے دین کی حفاظت کی، یہ حقیقت ہے۔

لیکن “احتساب” بھی دینی فریضہ ہے۔

اگر مدارس:

* شفاف ہوں

* * غیر موروثی ہوں

* زکوٰۃ کے شرعی اصولوں کے مطابق چلیں

تو وہ حقیقی معنوں میں ملت کے ادارے رہیں گے-

حصہ اوّل

*ہندوستانی مدارس کا معاشی تجزیہ*

(Economic Analysis of Indian Madrasas)

1. تاریخی پس منظر

1857 کے بعد جب سیاسی اقتدار ختم ہوا تو مسلمانوں نے تعلیمی خود کفالت کی تحریک شروع کی۔ اس دور میں قائم ہونے والا نمایاں ادارہ دارالعلوم دیوبند تھا، جس نے عوامی چندے پر مبنی ماڈل پیش کیا۔ اسی طرز پر بعد میں دارالعلوم ندوۃ العلماء اور دیگر ادارے قائم ہوئے۔

* یہ ماڈل سرکاری سرپرستی کے بجائے “عوامی امانت” پر مبنی تھا۔

*2. موجودہ معاشی ڈھانچہ*

ہندوستان میں اندازاً 30 تا 35 ہزار مدارس ہیں (مختلف سروے اندازوں کے مطابق)۔

ان کی آمدنی کے بنیادی ذرائع:

1. زکوٰۃ

2. صدقات و عطیات

3. قربانی کی کھالیں

4. وقف جائیداد

5. بیرونِ ملک عطیات (محدود سطح پر)

مالی تقسیم (عمومی رجحان)

55–65٪ اخراجات: طلبہ کی رہائش و طعام

15–20٪ اساتذہ کی تنخواہیں

10–15٪ تعمیر و مرمت

بقیہ: انتظامی اخراجات

3. پائیداری (Sustainability) کا مسئلہ

زیادہ تر مدارس مکمل طور پر عطیات پر منحصر ہیں۔

یہ ماڈل:

✔ لچکدار ہے

✘ غیر مستحکم ہے

✘ معاشی بحران میں متاثر ہوتا ہے

COVID-19 کے دوران یہ کمزوری نمایاں ہوئی۔

مقابلتاً جامعہ ازہر جامعہ ازہر کا ماڈل “وقف اینڈومنٹ” پر قائم ہے جو زیادہ مستحکم ہے۔

*4. شفافیت اور احتساب*

چیلنجز:

* غیر منظم آڈٹ

* شوریٰ کا غیر فعال کردار

* موروثی نظم

* مالی رپورٹنگ کی کمی

یہ تمام امور زکوٰۃ کی شرعی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔

*5. اصلاحی معاشی ماڈل*

(الف) اینڈومنٹ فنڈ

وقف سرمایہ کاری کے ذریعے مستقل آمدنی

(ب) مہارت پر مبنی کورس

IT، زبانیں، ہنر — تا طلبہ معاشی طور پر خود کفیل ہوں

(ج) ڈیجیٹل شفافیت

سالانہ مالی رپورٹ عوام کے لیے جاری ہو.

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان