کیا میں اپنے رثکا شکر گزار بندہ نہ بنوں

 *کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں*


عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری 

__________________________________


انسان کی زندگی دراصل نعمتوں کے سمندر میں گزرتی ہے۔ سانس لینے سے لے کر دل کی دھڑکن تک، ایمان سے لے کر عقل و شعور تک، صحت، رزق، اولاد، امن اور ہدایت تک—ہر چیز اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ انسان چاہے دن رات سوچتا رہے، پھر بھی وہ اللہ کی نعمتوں کا شمار نہیں کرسکتا۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید یوں بیان کرتا ہے:

*"وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا"*

(اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کرسکتے)۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شکر گزاری کو ایمان کی بنیادی اخلاقی صفت قرار دیا ہے۔ شکر گزاری صرف زبان سے “الحمدللہ” کہنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔

قرآن کی تعلیم کے مطابق شکر کے تین بنیادی پہلو ہیں:

1۔ دل سے نعمت کو اللہ کی عطا سمجھنا

2۔ زبان سے اس کی حمد و ثنا کرنا

3۔ عمل کے ذریعے نعمت کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا

قرآن مجید بار بار انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ہر نعمت کا اصل منبع اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی لیے فرمایا:

*"وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ"*

(تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔

اسی طرح انسان کو اپنی پیدائش، حواس اور عقل جیسی عظیم نعمتوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:

*"وَاللّٰهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ"*

(اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا جب کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل دیے تاکہ تم شکر ادا کرو)۔

قرآن مجید کی تعلیم یہ بھی ہے کہ شکر گزاری صرف اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ترقی اور برکت کا راز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم اصول بیان فرمایا:

*"وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ"*

(اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا)۔

گویا شکر گزاری نعمتوں کے دوام اور اضافے کا ذریعہ ہے۔ اس کے برعکس ناشکری انسان کو زوال اور محرومی کی طرف لے جاتی ہے۔

* قرآن ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ شکر گزار بندے اللہ کے نزدیک بہت قیمتی ہوتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا:

*"وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ"*

(میرے بندوں میں شکر گزار بہت کم ہیں)۔

یہ آیت انسان کو جھنجھوڑتی ہے کہ وہ اپنے آپ سے سوال کرے کہ کیا میں شکر گزار بندوں میں شامل ہوں یا ناشکروں میں؟

قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کو بھی شکر گزاری کی بہترین مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں فرمایا:

*"شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ"*

(وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے تھے)۔

اسی طرح حضرت نوحؑ کے بارے میں ارشاد ہے:

*"إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا"*

(بے شک وہ بہت شکر گزار بندہ تھا)۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی ابتدا بھی الحمد للّٰہ سے ہوتی ہے اور اہلِ جنت کی آخری دعا بھی یہی ہوگی:

*"وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"*

گویا شکر گزاری انسان کی زندگی کا آغاز بھی ہے اور انجام بھی۔

حقیقت یہ ہے کہ شکر گزاری انسان کے دل میں قناعت، سکون، مثبت سوچ اور اللہ پر اعتماد پیدا کرتی ہے۔ جو شخص شکر گزار ہوتا ہے وہ نعمتوں کو پہچانتا ہے، اللہ سے قریب ہوتا ہے اور زندگی کے نشیب و فراز میں بھی مطمئن رہتا ہے۔

اسی لیے ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ خوشی میں بھی شکر کرے اور آزمائش میں بھی اللہ کی حکمت پر راضی رہے۔

آئیے! ہم قرآن مجید کی روشنی میں شکر گزاری کے ان عظیم اصولوں اور تعلیمات پر غور کریں جو انسان کو روحانی بلندی، اخلاقی پاکیزگی اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں..

*شکر گزاری پر قرآن مجید کی آیات*

*(1) وَإِن تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا*

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کرسکتے۔

(النحل: 18)

*(2) ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ*

پھر بھی ہم نے اس کے بعد تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر گزار بنو۔

(البقرہ: 52)

*(3) ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ*

پھر ہم نے تمہیں تمہاری موت کے بعد زندہ کر دیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔

(البقرہ: 56)

*(4) فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ*

پس تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔

(البقرہ: 152)

*(5) فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ*

یقیناً اللہ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

(البقرہ: 158)

*(6) وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ*

اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی بندگی کرتے ہو۔

(البقرہ: 172)

*(7) فَاتَّقُوا اللّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ*

پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بنو۔

(آل عمران: 123)

*(8) وَسَيَجْزِي اللّهُ الشَّاكِرِينَ*

اور اللہ شکر گزاروں کو عنقریب جزا دے گا۔

(آل عمران: 144)

*(9) وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ*

اور ہم شکر گزاروں کو ضرور جزا دیں گے۔

(آل عمران: 145)

*(10) مَّا يَفْعَلُ اللّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ*

اگر تم شکر کرو اور ایمان لاؤ تو اللہ کو تمہیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے؟

(النساء: 147)

*(11) وَلَقَدْ مَكَّنَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ*

ہم نے تمہیں زمین میں اقتدار دیا اور اس میں تمہارے لیے سامانِ زندگی مہیا کیا مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔

(الأعراف: 10)

*(12) وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ*

اور یاد رکھو جب تمہارے رب نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔

(ابراہیم: 7)

*(13) وَاللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّن بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ*

اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے نکالا جب کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں کان، آنکھیں اور دل دیے تاکہ تم شکر کرو۔

(النحل: 78)

*(14) شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ*

وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا۔

(النحل: 121)

*(15) إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا*

بے شک وہ بڑا شکر گزار بندہ تھا۔

(الإسراء: 3)

*(16) رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ*

اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں۔

(النمل: 19)

*(17) أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ*

اللہ کا شکر ادا کرو اور جو شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے شکر کرتا ہے۔

(لقمان: 12)

*(18) إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ*

بے شک اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار کے لیے نشانیاں ہیں۔

(لقمان: 31)

*(19) وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ*

اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت کم ہیں۔

(سبأ: 13)

*(20) وَمَا بِكُم مِّن نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّهِ*

تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

(النحل: 53)

*(21) قُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ*

کہو: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔

(النمل: 59)

*(22) الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ*

تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

(الفاتحة: 2)

*(23) وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ*

اور ان کی آخری دعا یہ ہوگی کہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے۔

(یونس: 10)

*(24) وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ*

اور کہا جائے گا: تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو جہانوں کا رب ہے۔

(الزمر: 75)

*شکر کے موضوع پر  احادیث*

*(1) أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا*

“کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟”

(صحیح بخاری)

*(2) مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النَّاسَ لَا يَشْكُرِ اللَّهَ*

“جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔”

(سنن ترمذی)

*(3) عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ*

“مومن کا معاملہ عجیب ہے، اگر اسے نعمت ملے تو شکر کرتا ہے۔”

(صحیح مسلم)

*(4) إِنَّ اللَّهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ*

“اللہ اس بندے سے خوش ہوتا ہے جو کھانا کھا کر اس کی حمد کرے۔”

(صحیح مسلم)

*(5) الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ كَالصَّائِمِ الصَّابِرِ*

“شکر گزار کھانے والا صابر روزہ دار کے برابر ہے۔”

(سنن ترمذی)

*(6) إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَنْعَمَ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً أَحَبَّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتِهِ عَلَيْهِ*

“جب اللہ کسی بندے کو نعمت دیتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو۔”

(سنن ترمذی)

*(7) انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ*

“اپنے سے کم درجے والوں کو دیکھو۔”

(صحیح مسلم)

*(8) خَيْرُ النَّاسِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ*

“لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کو زیادہ فائدہ پہنچائے۔”

(طبرانی)

خلاصہ

شکر کے بنیادی اصول:

1۔ اللہ کی حمد کرنا شکر ہے۔

2۔ نعمت کو پہچاننا شکر ہے۔

3۔ نعمت کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا شکر ہے۔

4۔ لوگوں کا شکریہ ادا کرنا بھی شکر ہے۔

5۔ قناعت اور شکر ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔


مرتب۔ : عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری 

9224599910

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان