زکوٰۃ کا مصرف صرف مدارس
*زکوٰۃ صرف مدارس کے لیے ہیں یا اور بھی مصرف ہیں؟؟؟*
عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910
__________________________________
1۔ قرآن میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف
قرآن مجید میں زکوٰۃ کے مصارف واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں:
سورۃ التوبہ (9:60)
> "إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ"
ترجمہ:
صدقات (زکوٰۃ) تو صرف
1. فقراء کے لیے
2. مساکین کے لیے
3. زکوٰۃ کے کام کرنے والے کارکنوں کے لیے
4. تالیفِ قلب کے لیے
5. غلاموں کی آزادی کے لیے
6. مقروضوں کے لیے
7. اللہ کی راہ میں
8. مسافر کے لیے ہیں۔
یہ آٹھ مدات قرآن نے مقرر کی ہیں۔
2۔ کیا زکوٰۃ صرف مدارس کو دی جاسکتی ہے؟
فقہاء کے نزدیک:
زکوٰۃ مدرسے کو بطور ادارہ نہیں دی جاتی
بلکہ مدرسے کے مستحق طلبہ کو دی جاسکتی ہے
یعنی:
✔ غریب طالب علم
✔ نادار طالب علم
✔ مسافر طالب علم
ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔
لیکن
❌ عمارت بنانا
❌ مدرسہ فنڈ
❌ تنخواہیں
ان کے لیے زکوٰۃ دینا فقہی طور پر محل اختلاف ہے۔
3۔ ایک صدی سے زکوٰۃ مدارس کو کیوں جارہی ہے؟
ہندوستان میں اس کی تاریخی وجوہات ہیں:
1857 کے بعد
1۔ مسلم حکومت ختم ہوگئی
2۔ سرکاری سرپرستی ختم ہوگئی
3۔ مدارس نے خود کو چندے اور زکوٰۃ سے چلایا
اسی لیے
دارالعلوم دیوبند ماڈل کے بعد:
مدارس کا معاشی نظام زکوٰۃ اور چندہ پر قائم ہوگیا۔
4۔ موجودہ مسئلہ
آج تین بڑے مسائل پیدا ہوگئے ہیں:
1۔ زکوٰۃ کا ارتکاز
تقریباً
60% سے زیادہ زکوٰۃ مدارس میں جا رہی ہے
جبکہ
غریب ، بیوہ۔ ، بیمار , تعلیم ،۔ روزگار
نظر انداز ہورہے ہیں۔
2۔ مدارس کی نجی ملکیت
کئی مدارس میں
بانی
اس کے بیٹے
پوتے
ادارے کے مالک بن جاتے ہیں۔
جبکہ
اگر مدرسہ زکوٰۃ سے بنا ہے تو وہ
✔ ملت کی امانت ہونا چاہیے۔
3۔ خود کفالت کی کمی
بہت سے مدارس:
ہر سال چندہ
ہر سال زکوٰۃ
پر منحصر رہتے ہیں۔
5۔ زکوٰۃ کا متبادل معاشی نظام
ایک متوازن نظام یہ ہوسکتا ہے:
زکوٰۃ کی تقسیم
مصرف فیصد
فقراء 25%
مساکین 20%
تعلیم 10%
مقروضین 10%
دعوت و اصلاح 10%
مسافر 5%
تالیف قلب 5%
انتظامی نظام 5%
ریزرو فنڈ 10%
6۔ مدارس کے لیے نیا معاشی ماڈل
مدارس کو زکوٰۃ پر مکمل انحصار سے نکالنا ضروری ہے۔
1۔ وقف نظام
مدرسے کے پاس , زمین ، دکانیں ،کرایہ
ہونا چاہیے۔
مثال :10 دکانیں
20 ہزار کرایہ
= 2 لاکھ ماہانہ
2۔ تعلیمی خدمات
مدرسہ یہ کام کرسکتا ہے:
آن لائن عربی کورس
قرآن کورس
اسلامی اسٹڈیز
3۔ زراعتی منصوبہ
مدارس کے لیے:
کھیتی
ڈیری فارم
بکری فارم
4۔ اسکول + مدرسہ ماڈل
مدرسہ
انگلش میڈیم اسکول
یہ نظام ترکی اور مصر میں موجود ہے۔
7۔ بڑے مدارس کے لیے لائحہ عمل
بڑے مدارس کو چاہیے:
1۔ زکوٰۃ کا آڈٹ
ہر سال رپورٹ جاری کریں۔
2۔ ٹرسٹ سسٹم
ادارہ خاندان کی ملکیت نہ ہو۔
3۔ معاشی منصوبہ
وقف
سرمایہ کاری
تعلیمی خدمات
8۔ چھوٹے مدارس کے لیے لائحہ عمل
چھوٹے مدارس:
1۔ مقامی تعاون
محلہ فنڈ
2۔ مشترکہ نظام
چند مدارس مل کر:
کچن ، ہوسٹل ، لائبریری
3۔ جز وقتی تعلیم
طلبہ: ہنر ،کمپیوٹر
بھی سیکھیں۔
9۔ ملت کے لیے بڑا ماڈل
ایک مرکزی زکوٰۃ کونسل بن سکتی ہے۔
جس کے کام:
زکوٰۃ جمع کرنا
سروے کرنا
تقسیم کرنا
پاکستان، ملائیشیا اور ترکی میں ایسا نظام موجود ہے۔
10۔ اصولی بات
اگر مدرسہ زکوٰۃ سے بنا ہے تو
✔ وہ ملت کی امانت ہے
✔ نجی ملکیت نہیں ہوسکتا۔
حضرت عمرؓ کا اصول تھا:
> "جو مال مسلمانوں کے مفاد کے لیے ہے وہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوسکتا۔"
*مدارس کی نجی ملکیت کا مسئلہ*
اسلامی و قانونی تحقیق
اسلام میں جو ادارے وقف، صدقات اور زکوٰۃ کے ذریعے قائم ہوتے ہیں وہ دراصل امت کی اجتماعی امانت ہوتے ہیں۔ ان اداروں کو کسی فرد، خاندان یا نسل کی ذاتی ملکیت بنانا اسلامی اصولوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں بعض مقامات پر یہ رجحان پیدا ہوگیا ہے کہ مدارس، جو عوامی عطیات اور زکوٰۃ سے قائم ہوئے، وہ بانی یا اس کے خاندان کے زیرِ اثر رہتے ہیں اور بعد میں بیٹے، پوتے یا خاندان کے افراد ادارے کے وارث بن جاتے ہیں۔ اس مسئلے کا جائزہ اسلامی نصوص اور فقہی اصولوں کی روشنی میں ضروری ہے۔
1۔ قرآن کا اصول: امانت اور اجتماعی مفاد
قرآن مجید امانت کو اس کے اصل مصرف تک پہنچانے کا حکم دیتا ہے۔
سورۃ النساء (4:58)
> “بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کو ادا کرو۔”
مدرسہ اگر:
زکوٰۃ
صدقات
عطیات
سے قائم ہو تو وہ عوامی امانت ہے۔
2۔ وقف کا اسلامی اصول
اسلامی فقہ میں وقف کا اصول یہی ہے کہ وقف کی چیز ہمیشہ کے لیے اللہ کے نام پر مخصوص ہوجاتی ہے۔
فقہی اصول:
> “الوقف یخرج عن ملک الواقف”
یعنی وقف کرنے کے بعد وہ چیز واقف کی ملکیت سے نکل جاتی ہے۔
اس کا مطلب:
وقف شدہ زمین
مدرسہ
مسجد
کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں رہتی۔
3۔ زکوٰۃ کے مال کا اصول
زکوٰۃ کا مال دراصل:
مستحقین کا حق ہے۔
سورۃ التوبہ (9:60)
میں زکوٰۃ کے مصارف بیان کیے گئے ہیں۔
اس لیے اگر:
عمارت
ادارہ
مدرسہ
زکوٰۃ کے مال سے بنایا گیا ہو تو وہ امت کے مفاد کے لیے ہے۔
4۔ خلافتِ راشدہ کی مثال
حضرت عمرؓ کے دور میں بیت المال کے اصول بہت واضح تھے۔
حضرت عمرؓ کا قول:
> “جو مال مسلمانوں کے فائدے کے لیے ہو وہ کسی فرد کی ملکیت نہیں ہوسکتا۔”
اسی اصول پر:
بیت المال ، مدارس ، مساجد ، سرکاری ادارے قائم ہوتے تھے۔
5۔ مدارس کی نجی ملکیت کے نقصانات
اگر مدرسہ نجی ملکیت بن جائے تو کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں:
1۔ شفافیت ختم ہوجاتی ہے
* چندہ اور زکوٰۃ کا حساب واضح نہیں رہتا۔
2۔ میراثی نظام
ادارہ خاندان میں منتقل ہوجاتا ہے۔
3۔ انتظامی کمزوری
اہلیت کے بجائے رشتہ داری معیار بن جاتی ہے۔
4۔ اعتماد کا بحران
عوام کا اعتماد کم ہوجاتا ہے۔
6۔ اسلامی حل: ٹرسٹ اور وقف نظام
مدارس کو وقف یا ٹرسٹ کے تحت چلانا چاہیے۔
اس کے اصول:
1۔ ادارہ عوامی امانت ہو
2۔ شوریٰ نظام ہو
3۔ سالانہ آڈٹ ہو
4۔ شفاف مالی نظام ہو
7۔ ہندوستانی قانونی نقطہ نظر
ہندوستان میں مدارس کو عام طور پر ان قوانین کے تحت رجسٹر کیا جاتا ہے:
1۔ Public Trust Act 2۔ Societies Registration Act 3۔ Waqf Board
ان قوانین کے مطابق:
ادارہ کسی فرد کی ملکیت نہیں ہوتا
بلکہ ٹرسٹ یا سوسائٹی کے تحت ہوتا ہے۔
8۔ بڑے مدارس کے لیے اصلاحی ماڈل
بڑے مدارس کے لیے ضروری اصلاحات:
1۔ وقف رجسٹریشن
مدرسہ وقف کے طور پر رجسٹر ہو ۔
2۔ بورڈ آف ٹرسٹیز
کم از کم:7 تا 11 ارکان پر مشتمل بورڈ ہو ۔
3۔ مالی شفافیت
ہر سال:آڈٹ رپورٹ
مالی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
9۔ چھوٹے مدارس کے لیے لائحہ عمل
چھوٹے مدارس:
1۔ مشترکہ بورڈ بنائیں
محلے کے علماء اور معززین شامل ہوں۔
2۔ شفاف حساب
چندہ اور زکوٰۃ کی تفصیل ظاہر کریں۔
3۔ وقف املاک
دکانیں یا زمین وقف کی جائیں۔
Comments
Post a Comment