مسالک کے درمیان اتحاد

 *مسالک کے درمیان اتحاد کا اسلامی ماڈل*

(قرآن و حدیث کی روشنی میں)

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری 

--------------------------------


*1۔ اتحاد کی بنیادی تعلیم*

قرآن مجید نے واضح طور پر مسلمانوں کو اتحاد کی تعلیم دی ہے:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

“اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔”

(آل عمران: 103)

اس آیت میں امت کے اتحاد کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔

*2۔ اختلاف کا فطری ہونا*

اسلام اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ علمی اور اجتہادی اختلاف ممکن ہے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"إذا اجتهد الحاكم فأصاب فله أجران وإذا اجتهد فأخطأ فله أجر واحد"

(بخاری)

یعنی اگر مجتہد صحیح اجتہاد کرے تو دو اجر اور اگر خطا کرے تو ایک اجر ملتا ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اختلاف گناہ نہیں بلکہ علمی عمل ہو سکتا ہے۔

*3۔ صحابہ کرام کا اختلافی نمونہ*

صحابہ کرام کے درمیان بھی بعض فقہی مسائل میں اختلاف تھا، لیکن محبت اور احترام برقرار رہا۔

مثلاً:

غزوۂ بنی قریظہ کے موقع پر نمازِ عصر کے وقت کے بارے میں صحابہ میں اختلاف ہوا، مگر رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو درست قرار دیا۔

*4۔ ائمہ مجتہدین کا طرزِ عمل*

امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے درمیان فقہی اختلافات تھے، لیکن ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔

امام شافعیؒ کا قول ہے:

“میری رائے درست ہے مگر غلطی کا احتمال ہے، اور دوسرے کی رائے غلط ہے مگر درست ہونے کا احتمال ہے۔”یہی علمی وسعت اور تحمل اسلامی ماڈل کی بنیاد ہے۔

*5۔ اختلاف کے اسلامی آداب*

اسلام اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

قرآن کہتا ہے:

وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا

“آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ کمزور ہو جاؤ گے۔”

(الأنفال: 46)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف کو نزاع اور فساد میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے

*اتحادِ امت کا عملی اسلامی ماڈل*

1۔ مشترکہ عقائد کو بنیاد بنانا

توحید، رسالت، قرآن اور آخرت جیسے بنیادی عقائد پر اتحاد قائم کیا جائے۔

2۔ اختلاف کو علمی دائرے تک محدود رکھنا

فقہی اختلافات کو علمی بحث تک محدود رکھا جائے، عوامی جھگڑوں کا سبب نہ بنایا جائے۔

3۔ احترامِ علماء

ہر مسلک کے علماء اور بزرگوں کا احترام کیا جائے۔

4۔ مشترکہ دینی خدمت

دعوت، تعلیم، فلاحی کام اور سماجی اصلاح میں مل کر کام کیا جائے۔

5۔ نفرت انگیز زبان سے اجتناب

تقریروں، تحریروں اور سوشل میڈیا میں دوسرے مسلک کے خلاف سخت زبان استعمال نہ کی جائے۔

6۔ علمی مکالمہ

اختلافی مسائل پر علمی مذاکرہ اور تحقیق کو فروغ دیا جائے۔

7۔ اتحاد کو ترجیح دینا

اسلام کی سربلندی اور امت کی بھلائی کو مسلکی مفادات سے مقدم رکھا جائے۔


خلاصہ

اسلامی تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ:

* اختلاف علمی روایت کا حصہ ہے

لیکن تفرقہ اور دشمنی اسلام کی تعلیم نہیں

* جب مسلمان اتحاد، احترام اور علمی برداشت کو اپناتے ہیں تو امت مضبوط ہوتی ہے۔


علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:


فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں


موج ہے اندرون دریا ، بیرونِ دریا کچھ نہیں

Comments

Popular posts from this blog

*ازدواجی مسرتیں*(2)Happiness in Marriage

تصانیف مولانامودودی

برادران انصار واعوان